حیاتِ خالد — Page 358
نیات خالد 358 ممالک بیرون کے اسفار (۲) سالہا سال گزر گئے کہ اس راہ سے کسی راہرو کا گزر نہ ہوا۔خوش قسمتی سے آج یہاں بہت سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔علماء کرام نے تقاریر کیں اور سینکڑوں لوگ تقریر میں سننے کیلئے آئے۔آج انہوں نے قرآنی علوم کے دریا بہا دیئے ہیں۔اور نہایت قیمتی موتی پیش کئے ہیں۔جس طرح انہوں نے کھول کھول کر ( قرآنی تعلیم کو ) بیان کیا ہم اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔(۳) (خدا کرے) اسلام کی فتح کا جھنڈا دنیا کے تمام ملکوں میں اور اس نیلے آسمان پر لہراتا رہے اور سمندر کے کناروں تک پہنچ جائے۔اسلام کے اشارے پر سب لوگ ( خواب غفلت ) سے جاگ اٹھیں۔جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا دور ہو جائے۔بھائیو! ہاتھ ملاؤ کیونکہ احمدیت کی آواز یہاں پہنچ گئی ہے۔(۴) قادیان کا سپوت سندر بن میں آیا ہوا ہے۔اے مہدی ! اے عظیم الشان وجود ! تم کہاں ہو؟ تم گناہ گاروں کو نجات دینے کیلئے اس دنیا میں آئے ہو۔خطا کاروں کے دلوں کو تسکین دینے کیلئے تم نے کتنی تکالیف برداشت کیں۔اے مہدی ا تم کہاں ہو میرا دل بے اختیار قادیان کی << طرف دوڑا چلا جا رہا ہے۔۷ مارچ کی رات تمام احباب جماعت کا ایک تربیتی اجتماع مسجد جماعت کا تربیتی اجتماع احمدیہ میں منعقد ہوا۔احباب کی کثرت کے باعث مسجد تنگ محسوس ہوتی تھی۔اس موقعہ پر محترم میجر عبدالرحمن صاحب نے جو جلسہ میں شرکت کیلئے جیسور سے مع اہل و عیال جیپ میں آئے تھے احباب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی اخوت کا ذکر کیا نیز توسیع مسجد کیلئے پانچ سو روپے کا چیک پیش فرمایا۔چوہدری محمد شریف صاحب ڈھلوں نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔خاکسار نے مفصل طور پر تربیتی امور کا ذکر کیا۔نماز با جماعت ، خلافت کی اہمیت اور نظام جماعت کی پابندی کی ضرورت پر ایک گھنٹہ تک تقریر کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ کا پیغام پہنچایا کہ احباب اپنی قربانی کے معیار کو بلند کریں۔حضور کی تحریکات وقف عارضی اور تعلیم القرآن کی طرف بھی توجہ دلائی۔متعدد ا حباب نے فوری طور پر وقف عارضی کیلئے اپنے نام پیش کئے۔محترم امیر صاحب مشرقی پاکستان نے میری تقریر کا موثر ترجمہ فرمایا۔اس موقعہ پر دو شخص بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔احباب جماعت کی طرف سے مولوی جناب علی صاحب ہیڈ ماسٹر نے نمناک آنکھوں اور پر محبت لہجہ میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی خدمت میں السلام علیکم ورحمتہ اللہ