حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 334 of 923

حیاتِ خالد — Page 334

حیات خالد 333 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اختر از پیر تو مانده در دعا شام و سحر آن دعا ہالیش خدا رنگ ایجاب آورد ور اختر تیرے لئے صبح و شام دعا میں مصروف ہے۔مولیٰ کریم ان دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ماند اسیر نفس این عاجز دعا خواه از خدائے کز عنایاتش مگس ہم بالِ سرخاب آورد یہ عاجز اسیر نفس ہو کر خدا تعالی سے دعا گو ہے کہ اُس (خدا) کی عنایات سے مکھی بھی سرخاب روز نامه الفضل قادیان دارالامان ۲۵ را پریل ۱۹۳۶ء) کے پر نکالے۔ایک تاثر محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب فرید آبادی (سرساوی ) مرحوم لکھتے ہیں۔حضرت مولانا مرحوم و حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہنے فلسطین بطور مبل سلسلہ عالیہ حمدیہ بھیجا تو روانگی سے قبل آپ کی الوداعی تقریب مسجد نور کے قریب بڑ کے درخت کے نیچے ایک جلسہ میں ہوئی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کے جانے کے بعد مقامی طور پر ایک کمی محسوس کی جاتی رہی اور فلسطین سے جب آپ ساڑھے چار سال کے قریب فریضہ تبلیغ دین سرانجام دینے کے بعد واپس تشریف لائے تو مقامی طور پر کسی گمشدہ مال کے مل جانے کی طرح خوشی محسوس کی جارہی تھی۔ماہ اپریل ۲۰۰۰ ء میں جماعت احمد یہ کہا پیر ( فلسطین) نے اپنا جلسہ سفر کبابیر کے تاثرات سالانہ منعقد کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مكرم عطاء الحجيب صاحب را شد امام بیت المفضل لندن نے مرکزی نمائندہ کے طور پر اس جلسہ میں شمولیت کی۔دو ہفتہ کے قیام کے دوران آپ کو احباب جماعت سے ملاقات اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔آپ تحریر کرتے ہیں :۔اس سفر کے دوران حضرت ابا جان مرحوم و مغفور کے حوالہ سے دوست اس قدر محبت اور پیار سے ملے کہ میں فرط جذبات سے بے قابو ہو جاتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے احباب جماعت کے دلوں میں حضرت ابا جان کی ایسی محبت پیدا کر دی ہے کہ بات بات پر وہ ان کا ذکر کرتے تھے۔ایک روز میری درخواست پر سب ایسے دوست ایک مجلس میں اکٹھے ہوئے جنہوں نے حضرت ابا جان کو دیکھا