حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 326 of 923

حیاتِ خالد — Page 326

حیات خالد 325 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہوئے۔استاذ عزام نے کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے وفدی پارٹی کا ذکر کر دیا۔مسجد اقصیٰ کے صحن میں کا نفرنس ہو رہی تھی۔فلسطین کے باشندے وفدی پارٹی سے گہری محبت رکھتے تھے اس ذکر پر نعرہ ہائے مسرت بلند ہوئے۔استاد سلیمان فوزی نے جو وفدی پارٹی کے خلاف تھے۔اس اسلامی مجلس میں وفدی اور غیر وفدی تذکرے کو سن نہ سکے۔انہوں نے اس رویہ کی مخالفت کی۔مخالفت کی آواز ابھی پورے طور سے بلند بھی نہیں ہوئی تھی کہ مسجد اقصیٰ میں ایک شور بلند ہوا۔ہر طرف سے آوازے اٹھے اور بعض تلوار میں میانوں سے نکل آئیں۔اگر مفتی اعظم سلیمان فوزی کو منبر کے نیچے نہ چھپا لیتے تو یقیناً ان کی گردن کٹ کر مسجد کے صحن میں جاپڑتی۔منبر کے نیچے چھپے ہوئے انسان تک تلوار تو نہیں پہنچ سکتی تھی مگر کے اور لائیں تو چل سکتی تھیں سو وہ چلتی رہیں۔اس ایک واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ سیاسی اختلاف پر بھی ایک شخص کو قتل کر دینا بالکل آسان تر خیال کرتے ہیں اور اس غرض کیلئے مسجد اقصیٰ کی تقدیس کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔چہ جائیکہ ایک شخص سے مذہبی اختلاف ہو اور وہ بھی شدید۔ایسی صورت میں جو کچھ بھی وہ کر گزریں تھوڑا ہے۔اسی لحاظ سے ہمارے مبلغین کے متعلق یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ موت ان کے سروں سے ہر وقت کھیلاتی ہے اور دشمن ہر وقت ان کی تاک میں رہتے ہیں۔صرف اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہی ان کی جان کی حفاظت کرتا ہے۔اس شدید پر خطر ملک میں دشمنوں کی صفوں میں ہمارے مبلغین کا چلنا پھرنا اس شدید ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے جو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر حاصل ہے اور یہی وہ ایمان ہے جو ان لوگوں میں بھی سرایت کر رہا ہے جو ان کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا رہے ہیں۔اس امر کی بڑی دلیل تحریک جدید میں شرکت ہے۔تحریک جدید ایک ایسی تحریک ہے۔جو بہت بڑی قربانی کا مطالبہ انسان سے کرتی ہے۔اور یہ ایسی قربانی ہے کہ جب تک انسان کے دل میں ایمان گھر نہ کر لے وہ اس قربانی کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مسلمان مستقل مالی قربانی کی عادت کو بھول چکا ہے۔اس قربانی کو از سر نو احمدیت نے زندہ کیا ہے۔چنانچہ فلسطین اور دیگر بلا دعر بیہ کے احمدی مسلمانوں میں بھی اب یہی روح نشو و نما پا رہی ہے۔وہ اب اپنے نفس پر دین کی ہر ایک بات کو مقدم کرتے ہیں۔چنانچہ تحریک جدید کے چندوں میں ان کا حصہ لینا اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ عرب احمدی ہندوستانی احمدی کے پہلو بہ پہلو چلنے کے قابل ہو گیا ہے۔اور یہ مقام ہمارے مبلغین کی تربیت اور محنت کے نتیجے میں ہی حاصل ہوا ہے۔