حیاتِ خالد — Page 327
حیات خالد انصار الله 326 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام مالی قربانی کر دینا بھی کوئی بات نہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس نور کو خود اس حد تک سمجھ لیا ہے کہ اب وہ دوسروں تک بھی اسے بآسانی پہنچا سکتے ہیں اور اس کے لئے اپنے وقت کی قربانی کر دینا بھی ان کو بہت آسان نظر آتا ہے۔چنانچہ اس تربیت کے نتیجے میں انہوں نے ہندوستانی احمدیوں کے طریق پر انصار اللہ کی انجمنیں بنا کر قائم کر دیں اور ممبران انصار اللہ اپنے مقررہ نظام کے ماتحت ارد گرد کے دیہات میں تبلیغ کے لئے نکل جاتے ہیں اور اس طرح اس پیغام آسمانی کولوگوں تک پہنچاتے ہیں۔مبلغین کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام وہاں نہایت ہی عمدگی اور باقاعدگی سے ہوتا ہے یہ بات اچھی طرح سے تجربہ میں آچکی ہے کہ جیسے انجن کا اثر گاڑیوں پر ہوتا ہے ویسے ہی امام کا اس کی جماعت پر ہوتا ہے۔مبلغین بیرونی جماعتوں میں حضرت امیر المومنین اید واللہ کے نمائندے ہوتے ہیں۔اگر خود ان کے اندرستی ہو تو جماعت سست ہو جائے گی اور اگر ان کے اندر احساس عمل ہو تو جماعت میں بھی احساس عمل ہوگا۔چنانچہ انصار اللہ کا قیام اور ان کا مفید کام بھی مبلغ کی حساس روح کا پتہ دیتا ہے۔حیفا، ناصرہ کے قریب ہی ہے۔ناصرہ سے حیفا کو سیدھا راستہ ایک لطیف اور تاریخی بات جاتا ہے۔ناصرہ میں حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے جس کی وجہ سے وہ ناصری کہلائے۔ناصرہ کے رہنے والے مسیح نے بیت المقدس میں آکر مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ کا مطالبہ کیا۔زمینوں کے اور پہاڑ کے دامن میں رہنے والے ماہی گیروں نے اس آواز پر لبیک کہی۔انیس سو سال کے بعد جبل کرمل پر پھر ایک دفعہ من انصاری الی اللہ کی آواز گونجی۔جس کا جواب کہا بیر اور اس کے گردو نواح کے عرب سنگ تراشوں اور مزدوروں نے نحن انصار الله کے پر کیف و پر وجد نفمہ میں دیا۔یہاں اور وہاں فرق اس قدر تھا کہ وہاں صحیح خود بول رہا تھا اور یہاں صحیح کا ایک خادم آواز دے رہا تھا۔وہاں بھی غریب ماہی گیر لوگ مسیح کا دامن تھامے ہوئے تھے اور یہاں بھی دنیا کی نگاہ میں کمزور اور مزدور لوگ ہیں جو گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ پہاڑوں میں اور ان کی وادیوں میں الغرض ہر جگہ اس امر کی منادی کر رہے ہیں کہ آنے والا مسیح دو زرد چادروں میں ملبوس ہو کر آ گیا ہے اور دیکھوز مین کی طاقتیں ہلا دی گئی ہیں، قوم قوم پر چڑھ رہی ہے اور ملک ملک کے خلاف ہورہا ہے، بیا را اچھے ہور ہے ہیں، اندھوں کو بینائی اور لولے لنگڑوں کو ہاتھ اور پاؤں دیئے گئے ، مبروص اچھے ہو رہے ہیں۔پہاڑوں میں گونج ہے وادیوں میں شور ہے۔مسلمین سمندروں کے سینے چیر کر ادھر سے ادھر