حیاتِ خالد — Page 305
حیات خالد 304 بلا و عر بیہ میں تبلیغ اسلام ان کی بندوقیں نہ چل سکیں اور وہ آپ پر ایک گولی چلانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔اس واقعہ کا اقرار اس سازش میں شریک افراد میں سے ایک شخص نے اہل کہا بیر کے سامنے بعد میں کیا۔اور حضرت مولانا صاحب نے خود بھی اس گھات کی جگہ سے گزرتے ہوئے ایسا خوف محسوس کیا تھا جس کا ذکر انہوں نے وہاں پہنچتے ہی احباب جماعت کے سامنے کیا تھا“۔حضرت مولانا کی تبلیغی مساعی کے بارہ میں دو اہم تبصروں کا ذکر اس جگہ مناسب دوا ہم تبصرے معلوم ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۳ء کے موقعہ پر اپنی تقریر میں فرمایا : - مولوی اللہ دتا صاحب شام اور مصر میں اچھا کام کر رہے ہیں۔حیفا میں ایک بڑی جماعت قائم ہے جس کے افراد مولوی جلال الدین صاحب شمس کے وقت کے ہیں مگر مولوی اللہ و تا صاحب کام کو خوب پھیلا رہے ہیں۔الفضل ۷ جنوری ۱۹۳۴ء۔تاریخ احمدیت جلد ۷ صفحه ۱۱۳۷) قیام مصر و فلسطین کے دوران آپ کے کام پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے لکھا: - آپ نے مسجد کی تکمیل کی۔مدرسے کا قیام ان کے ہاتھوں ہوا۔بلکہ پریس کو بھی انہوں نے قائم کیا اور مجھے ان کے کام سے دلی مسرت ہے۔مولوی اللہ دتا صاحب ابوالعطاء فاضل، القصہ بہترین مبلغین میں سے ہیں جنہیں کام سے محبت ہے اور اس کے علاو و محد تین نیک طبیعت رکھتے ہیں۔جو کام ان کے سپرد کیا جائے شوق سے کرتے ہیں“۔( بحوالہ سروس بک صدر انجمن احمدیہ ) احباب کے تاثرات اور دلچسپ واقعات مکرم محد حمید کوثر صاحب سابق مبلغ فلسطین حال مبلغ سلسلہ بھارت مخلصین حیفا کے تاثرات نے اہل حیفا کی زبانی حضرت مولانا کے قیام حیفا ( فلسطین) کے بعض دلچسپ اور نادر واقعات جمع کئے ہیں۔یہ واقعات کو ثر صاحب ہی کی تحریر میں ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔