حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 304 of 923

حیاتِ خالد — Page 304

حیات خالد 303 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اس کتاب میں بچوں کو احمد یہ عقائد کے مطابق تربیت دینا مد نظر رکھا گیا ہے۔اللہ تعالی اسے مفید اور نافع للناس بنائے۔آمین کیا بیر، حیفا ، بر جا اور بغداد سے احباب کی انفرادی تبلیغ میں مشغول ہونے کی دیگر تبلیغی کوائف خوشکن اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کہا بیر میں برادرم محمد سعید بخت ولی طلبہ کی تعلیم میں خوب کوشاں ہیں۔میں ہفتہ واری رپورٹ کے بعد مناسب ہدایات دیتا رہتا ہوں۔پراب انکی ایک پادری سے صلیب مسیح گفتگو ہوئی۔اس عرصہ میں اخویم السید محمد صالح اور السید حامد صالح کے نکاح ہوئے ہیں۔چونکہ لڑکیاں دونوں غیر احمدی تھیں اس لئے بعض مشائخ نے ان نکاحوں میں رخنہ اندازی کی پوری کوشش کی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بالکل ناکام رہے۔اللہ تعالیٰ ان الفضل قادیان ۹ را کتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۶-۷ ) نکاحوں کو مبارک کرے۔آمین عجزانہ حفاظت کا واقعہ میدان تبلیغ میں مبلغین سلسلہ کو کن نامساعد اور دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا تذکر ہ اس باب میں جا بجا ہوتا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ مجاہد بندوں کو ہمیشہ اپنی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔حضرت مولانا کے قیام فلسطین کے دوران بھی ایک بار آپ پر مخالفین نے بندوق سے فائر جنگ کی کوشش کی لیکن اللہ تعالی نے آپ کو معجزانہ طور پر محفوظ رکھا۔اس واقعہ کا ذکر جماعت کہا بیر کے ایک صاحب قلم دوست عبد الله اسعد عودہ صاحب نے اپنی کتاب الْكَبَابِيرُ بَلَدِی، مطبوعہ ۱۹۸۰ء میں ان الفاظ میں کیا ہے۔كَمَا وَلَابُدَّ مِنْ ذِكْرِ الْمُوَّ اَمَرَةِ الْخَسِيسَةِ الْفَاشِلَةِ الَّتِي دَبَّرَهَا بَعْضُ أَشْرَارِ حَيْفَا عِندَمَا نَصَبُوا فِي إِحْدَى اللَّيَالِي كَمِينًا مُسَلَّحًا لِيَقْتُلُوا الْمُبَشِّرَ الْاُسْتَاذَ أبُو الْعَطَاءِ أَثْنَاءَ عَودَتِهِ إِلَى الْكَبَابِيرِ وَلَكِنْ بَنَادِقُهُمْ تَعَطَّلَتْ بِقُدْرَةِ قَادِرٍ وَلَمُ يُفْلِحُوا فِي اِطلاقِ رَصَاصَةٍ وَاحِدَةٍ عَلَيْهِ - وَقَدْ أَقَرَّ اَحَدُ الْمُشْتَرِكِيْنَ فِي وَقْتِ لَاحِقٍ أَمَامَ أَهْلِ الْكَبَابِيرِ - وَكَانَ الْمُبَشِّرُ هُوَ الْأَخَرُ قَدْ شَعَرَ بِالْخَوْفِ يَوْمَهَا عِندَ اقْتِرَابِهِ مِنْ مَوْقِعِ الْكَمِيْنِ وَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَفْرَادَ الْجَمَاعَةِ حَالَ وُصُولِهِ۔(صفحه ۱۴۱) ترجمہ: ” یہاں پر ایک نہایت رذیل اور ناکام سازش کا ذکر بھی نہایت ضروری ہے جس کا منصو بہ حیفا کے بعض شریروں نے بنایا تھا۔وہ ایک رات مسلح ہو کر گھات لگا کر بیٹھے کہ جب حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کہا بیر سے واپس تشریف لائیں تو انہیں قتل کر دیں۔لیکن خدائے قادر کی قدرت سے