حیاتِ خالد — Page 290
حیات خالد 289 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہو سکتے جو ہمارے غیر احمدی دوست کرتے ہیں کیونکہ خاتم کا لفظ جب کسی جماعت کی طرف مضاف ہو اور مقصود مدرج ہو جیسے خاتم الشعراء، خاتم الکلہا وغیرہ تو اس کے معنی صرف یہی ہوتے ہیں کہ ممدوح تمام صلى اللهم قوم سے افضل اور اشرف ہے۔اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کہ رسول پاک ﷺ تمام انبیاء سے افضل اور جامع جمیع کمالات انسانی ہیں اور آپ کی پیروی سے انسان خدا کا مقرب بن سکتا ہے۔وفات مسیح علیہ السلام مسیحی: حضرت مسیح کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔احمدی یہی کہ وہ دیگر انبیاء کی طرح ایک معصوم نبی تھے۔خدا یا ابن اللہ نہیں تھے۔ان کے ذریعہ خدا نے یہود کو ہمارے سید و مولی حضرت محمدمے کی آمد کی ایک عظیم الشان بشارت دی تھی۔پھر وہ دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو گئے۔ان کا مقام حضرت محمد ﷺ کے مقابل میں ایک شاگرد کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ رسول پاک ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ لوگان مُوسَى وَعِيْسَى حَيِّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعنی اور اس زمانہ میں بھی خدا نے حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے بانی جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے تمام شان میں افضل پیدا کر کے بتا دیا کہ واقعی رسول عربی کے تمام انبیاء سے فضل ہیں۔الله مسیحی میسیج کی موت کا اعتقادر کھنے میں تو آپ نے ہماری موافقت ظاہر کی۔:احمدى حَاشَا وَكَلَّا۔ہمارے اور آپ کے عقیدہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔آپ مانتے ہیں کہ ۳۳ سال کی عمر میں حضرت مسیح صلیب پر مر گئے مگر ہم اس کی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور اس کے برخلاف یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنی طبعی موت کے ساتھ ۱۲۰ سال عمر پا کر فوت ہوئے۔مسیحی: پھر تو آپ اس عقیدہ میں یہود، نصاری اور مسلمان متینوں قوموں کے مخالف مظہرے اور یہ ایک شدید اختلاف ہے۔احمدی: ہمارا اختلاف حق پر مبنی ہے لیکن کیا ہم سے پہلے ان تینوں اقوام کا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق واحد ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح