حیاتِ خالد — Page 291
حیات خالد 290 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام علیہ السلام کی ذات پیدائش سے لے کر یوم وصال تک گہوارہ اختلافات بنی ہوئی ہے۔یہود، مسلمانوں اور عیسائیوں میں سے ہر ایک کی الگ رائے اور الگ عقیدہ ہے۔پس ان اختلافات کے ہوتے ہوئے اگر ہم نئی تحقیق پیش کریں تو یہ عجیب بات نہیں۔منظمند اختلاف کے لفظ سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کی اصلیت پر غور کرتا ہے اور اگر اس کے دلائل اس کو قومی معلوم ہوں تو قبول کر لیتا ہے۔مسیحی: یہ آپ نے بالکل صحیح اور درست فرمایا لیکن آپ تو اب آئے اور مسیحی اور یہود قدیم سے مسیح کی صلیبی موت کے قائل ہیں۔احمدی: تقدم زمانی کسی قوم کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ورنہ کیا آپ ولادت مسیح کے متعلق یہود کے اس قول کو صحیح تسلیم کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ ولد الزنا تھے کیونکہ عیسائیت کا اس وقت وجود بھی نہیں تھا اور یہود موجود تھے۔مسیحی نہیں ہر گز نہیں۔وہ تو بالکل جھوٹ سکتے ہیں۔احمدی: پس معلوم ہوا کہ تقدم زمانی انسان کو حقائق تک نہیں پہنچا سکتا۔خصوصاً جب کہ یہود اور نصاری میں سے حضرت مسیح کی صلیبی موت کا عینی شاہد کوئی بھی موجود نہیں اور ہمارے پاس توریت، انجیل ، قرآن کریم اور تواریخ سے متعدد دلائل اور براہین موجود ہیں۔جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں فوت ہوئے۔مسیحی : کیا توریت اور انجیل سے بھی؟ احمدی : ہاں تو ریت اور انجیل سے بھی۔مسیحی: کچھ بیان فرمائیے۔تا ہمیں بھی معلوم ہو۔احمدی: اول تو رات سے ثابت ہے کہ جو شخص مدعی نبوت ہو کر صلیب پر مرے وہ ملعون ہوتا ہے۔دوم اگر ہم ان کو مصلوب مانیں تو گویا ہم خود ان کے ملعون ہونے کا فتویٰ دیں گے اور یہ ایسی بات ہے جس کی کم از کم ہمیں جرات نہیں ہو سکتی اور پھر یہود کا دھوئی بھی مسیح کے کا ذب اور ملعون ہونے کا سچا تسلیم کرنا پڑے گا۔مسیحی: اس میں کیا حرج ہے کہ یسوع مسیح ہماری خاطر ملعون ہوا؟ احمدی : لعنت کے کیا معنی ہیں؟