حیاتِ خالد — Page 258
حیات خالد 264 مناظرات کے میدان میں ہیں۔آپ نے وہ کتاب اس ہندو دوست کے سامنے رکھ دی۔ہندو ودوان نے دیکھ کر کتاب واپس کر دی اور اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔دوسرا واقعہ حضرت مولانا صاحب اور میں محترم چوہدری عبدالرحمن صاحب غیر مبائع ، جو بعد میں بہائی ہو گئے تھے کی رہائش گاہ واقع سری نگر گئے۔انہوں نے حضرت مولانا پر کئی متنازعہ امور کے بارے میں سوالات کئے جن کے مدلل جواب مولانا نے دیئے۔اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔جس کے بعد ہم وہاں سے واپس آگئے۔تیسرا واقعہ: میں حضرت مولانا صاحب کو محترم کرنل پیر محمد خان صاحب کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ سری نگر لے کر گیا۔وہاں محترم کرنل صاحب مع چند احباب اور دو مولوی صاحبان، بڑے تپاک سے ملے۔محترم کرنل صاحب نے مولانا سے اختلافی مسائل پر روشنی ڈالنے کو کہا۔حضرت مولانا نے بڑے اچھے پیرایے میں تفصیل سے مسائل پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد کرنل صاحب تو خاموش ہو گئے لیکن انہوں نے دونوں مولوی صاحبان کو کہا کہ آپ لوگ بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں۔لیکن مولوی صاحبان نے خاموشی اختیار کر لی۔اس کے بعد ہم نے کھانا تناول کر کے کمرہ میں ہی نماز ظہر ادا کی اور تھوڑا وقت آرام کرنے کے بعد تبادلہ خیالات کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔چائے نوش کرنے کے بعد ہم کرنل صاحب کا شکر یہ ادا کر کے واپس آگئے۔0 مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب برا در خور د حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مناظروں کے بارے میں عمومی واقعات کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں۔جو واقعہ میں بیان کر رہا ہوں یہ واقعہ جماعت احمدیہ کے ایک تاریخی امتیاز کی بہت سی مثالوں میں سے محض ایک مثال ہے۔مذہبی مناظروں میں ہندوستان بھر میں جماعت احمدیہ نے اسلام کا جو کامیاب دفاع مسلسل کئی سال کیا ہے یہ اس کا تذکرہ ہے۔مسلمانوں کو جب بھی کہیں اسلام کے دفاع کیلئے دینی مدد کی ضرورت پڑتی جماعت احمدیہ کے علماء بغیر ایک پیسہ لئے فوراً پہنچ جاتے تھے۔اسی طرح اہل سنت کے مسلمانوں کو شیعہ صاحبان کے مقابل پر ضرورت ہوتی تو جماعت احمدیہ سے مدد حاصل کرتے اس کی وجہ یہی تھی کہ احمدی عقائد خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تائید میں ہیں۔مولانا کی زندگی میں جماعت احمدیہ کی اس دینی خدمت کا جابجا تذکرہ ملتا ہے۔مکرم مولوی عنایت صاحب مزید فرماتے ہیں کہ پٹھانکوٹ میں شیعوں کی مجلس عزاء ہو رہی تھی۔