حیاتِ خالد — Page 259
حیات خالد 265 مناظرات کے میدان میں دوران مجلس بعض تقاریر پر کچھ گرم باتیں ہوئیں۔اہل سنت نے اہل تشیع کو مناظرہ کا چیلنج دے ڈالا بلکہ یہ بھی کہا کہ جو حاضر نہ ہوں اس کے لئے جرمانہ تجویز کیا جائے۔اس کے بعد اہل سنت کے افراد لگے دوڑ دھوپ کرنے۔عام طور پر مسلمان آبادی غرباء پر مشتمل تھی جس کی طرف بھی وہ جاتے وہ علاوہ کرایہ اور خرچے کے۔۵۰۰ روپیہ کا مطالبہ کرتے۔(اس زمانہ میں یہ رقم آج کے ۳۰۔۴۰ ہزار روپے کے برابر بنتی ہوگی۔مؤلف ) اہل سنت یہ رقم ادا نہ کر سکتے تھے۔ہر طرف سے مایوس ہو کر خاموش بیٹھ رہے بلکہ تاوان دینے پر رضامند ہو گئے۔جب تھوڑے سے دن باقی تھے تو ان لوگوں کی ایک احمدی سے ملاقات ہو گئی۔اس کو صورت حال کا علم ہوا اور اسے بتایا گیا کہ اہل سنت تاوان بھرنے کو تیار ہیں۔احمدی دوست نے کہا کہ کیا ضرورت ہے تاوان بھرنے کی۔قادیان جاؤ اور جتنے علماء کرام چاہتے ہو لے آؤ۔وہ لوگ فوراً قادیان آئے۔یہاں پر بات ہوئی تو مرکز نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکئی کو روانہ کر دیا۔مناظرہ ہوا تو پہلی تقریر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے کی۔جس میں ایمان اصحاب ثلاثہ یعنی حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان کے ایمان کا ذکر تھا۔مخالف نے تقریر شروع کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان کے خلاف کہنا شروع کر دیا۔اس پر اہل سنت حضرات نے حضرت مولانا کو رتھے لکھنے شروع کئے کہ آپ کہیں تو ہم ان کو سنبھال لیتے ہیں۔مگر حضرت مولانا نے ان کو روکا اور صبر کی تلقین کی اور جواب میں ایسی خوبی اور دلائل سے بھر پور تقریر کی کہ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔بے حد موثر مناظرہ تھا۔اہل سنت بھائیوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔مکرم راجہ منیر احمد خان صاحب سابق کیا آپ کے مولوی صاحب مناظر ہیں؟ صدر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے والد مکرم راجہ محمد مرزا خان صاحب صوبیدار ریٹائرڈ دارالرحمت وسطی ربوہ ایک دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں :- ۶۳ ۱۹۶۲ء کے سالوں میں جب کہ میں فوج کی ملازمت کے دوران کوٹلی آزاد کشمیر میں فوجی ہسپتال میں متعین تھا تو حضرت مولانا بھی گرمیاں گزار نے تشریف لائے ہوئے تھے۔بیت الاحمدیہ نزدیک ہونے کی وجہ سے میں نماز عصر وہیں پڑھتا۔حضرت مولوی صاحب بڑے پیارے انداز سے ملتے۔اکثر نماز عصر کے بعد حضرت مولوی صاحب جماعت کے چند دوستوں کے ہمراہ سیر کیلئے جاتے میں بھی ساتھ ہوتا۔اس دوران حضرت مولوی صاحب دین کی باتوں کے علاوہ اور کوئی بات نہ کرتے۔