حیاتِ خالد — Page 252
حیات خالد 258 مناظرات کے میدان میں متانت و شائستگی مناظروں میں مخالف کی سخت سست باتوں کے جواب میں اچھے اچھے با حوصلہ مقرر بھی متانت و شائستگی کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں۔مگر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے مناظروں کی ایک نمایاں بات یہ تھی کہ آپ کبھی بھی متانت و شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے اور زبردست دلائل بھر پور علم اور سنجیدگی کے ساتھ فتح حاصل کرتے تھے رستمبر اور ۱۹۳۸ء میں آریہ سماج شملہ سے مناظرہ ہوا۔مخالف مناظر پنڈت چرنجی لال پر یم تھے جو سخت کلامی میں مشہور تھے۔مگر حضرت مولانا کی سنجیدگی اور شائستگی میں کوئی فرق نہ لا سکے۔الفضل لکھتا ہے۔" جس بات کا خاص اثر تمام پبلک پر ہوا اور جس کا ہر ایک نے آریہ سماجیوں سمیت اعتراف کیا وہ مولوی صاحب کی متانت اور زبان کی شائستگی تھی۔مضمون نازک تھا ( غالبا نیوگ کی طرف اشارہ ہے۔مؤلف بات انہوں نے ساری کہہ دی لیکن ایسے الفاظ میں کہ دل آزاری نہ ہونے پائے“۔(الفضل ۱۸ر ستمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۲) حضرت مولانا نے اپنی خود نوشت حیاۃ ابی العطاء" کی چھٹی مناظرہ کیلئے اعتکاف کی قربانی قسط میں مناظرہ کو عملی جہاد قرار دیتے ہوئے ذکر فرمایا ہے کہ ایک بار رمضان میں اعتکاف چھوڑ کر مناظرہ کیلئے جانا پڑا۔آپ فرماتے ہیں۔قادیان میں مدرسہ احمدیہ کی آخری جماعتوں کے زمانہ سے اعتکاف کی توفیق پاتا رہا ہوں۔با قاعدہ مبلغ مقرر ہونے پر ناظر صاحب دعوة وتبلیغ کی اجازت سے اعتکاف بیٹھا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ عین اعتکاف کے ایام میں ایک جگہ آریوں سے مناظرہ مقرر ہو گیا اور جناب ناظر صاحب نے فرمایا کہ اس مناظرہ کیلئے آپ کا جانا ضروری ہے۔اعتکاف چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔اس سال ہمارے استاد حافظ روشن علی صاحب بھی معتکف تھے۔ان سے ذکر آیا تو فرمانے لگے کہ فتح مکہ بھی رمضان المبارک میں ہوئی تھی اس لئے آپ ضرور چلے جائیں۔چنانچہ میں انشراح صدر کے ساتھ دعا کرتا ہوا مناظرہ کیلئے چلا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خاص تائید فرمائی اور حق کا بول بالا ہوا۔اعتکاف ایک مسنون عبارت سے فرض نہیں ہے لیکن جن لوگوں کو اعتکاف کی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے وہ حتی الامکان اس کے ترک پر آمادہ نہیں ہوتے۔کیفیت لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔مَنْ ذَاقَ عَرَفَ (الفرقان دسمبر ۱۹۶۸ ء صفحه ۴۵)