حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 253 of 923

حیاتِ خالد — Page 253

متفرق واقعات ه محترم مولانامحمد صدیق صاحب گورداسپوری سابق امیر جماعت سیرالیون اور امریکہ حال نائب وکیل التبشیر ربوہ لکھتے ہیں۔مدرسہ احمدیہ (قادیان) کے ساتویں جماعت کے طلباء کو مناظرات میں شریک ہونے کی اجازت تھی تا کہ وہ بھی میدان تبلیغ میں پیش آمدہ مسائل اور دلائل سے واقفیت حاصل کریں۔اس عرصہ میں میں نے آپ کو ایک نہایت ہی کامیاب مناظر کی حیثیت سے دیکھا۔مخالف کے اعتراضات کا جواب ایسے اچھوتے رنگ میں دیتے کہ معترض لا جواب ہو کر رہ جاتا اور اپنے تو الگ رہے غیر بھی آپ کے حسن بیان کی داددینے پر مجبور ہو جاتے“۔0 محترم صوفی محمد الحق صاحب سابق مبلغ انچارج و امیر لائیپیر یا، کینیا اور یوگنڈا، مبلغ غانا و سیرالیون و سابق استاذ جامعہ احمد یہ ربوہ لکھتے ہیں۔میں نے دو دفعہ آپ کو مناظرہ کرتے دیکھا۔پہلی دفعہ کوٹ غازی نزد گورداسپور میں جہاں ان کا مناظرہ مشہور بد زبان احراری مولوی لال حسین اختر سے ہوا۔اگر ایک طرف حضرت مولانا موصوف شرافت اور سنجیدگی کے پہلے تھے تو دوسری طرف یہ بد زبان احراری مولوی تھا جو طعن و تشنیع اور جا و بے جا طنز میں ہی اپنی کا میابی سمجھتا تھا اور یہ نہیں سوچتا تھا کہ شرفاء پر اس کے بیہودہ طرز کلام کا کیا اثر ہوتا ہوگا۔بہر حال میں نے دیکھا کہ وہ بد زبان مولوی با وجود اپنی انتہائی کوشش کے حضرت مولانا کے قدم شرافت اور شائستگی کے میدان سے نہ اکھاڑ سکا۔اور حضرت مولانا نہایت متانت سنجیدگی اور وقار سے اپنی بات بیان کرتے رہے۔ان کا دوسرا مناظرہ بٹالہ سے چند میل دور اس سڑک پر ہوا جو بٹالہ سے گورداسپور کو جاتی ہے۔یہاں مولانا موصوف کے مد مقابل مولوی عبداللہ معمار تھے یہاں بھی اگر ایک طرف سنجیدہ دلائل تھے تو دوسری طرف سفلہ پن اور رزالت۔0 مکرم خواجه خورشید احمد صاحب سیالکوٹی مرحوم رقم فرماتے ہیں۔قریبا ۱۹۷۲ء کی بات ہے خاکسار اصلاح وارشاد کے سلسلہ میں لنڈ یا نوالہ تحصیل جڑانوالہ کے قریب مانے داشبہ نامی چک سے گزر رہا تھا۔وہاں معلوم ہوا کہ حنفیوں اور اہلحدیثوں کے درمیان مناظرہ طے پا رہا ہے۔شرائط مناظرہ طے ہو رہی تھیں کہ کھانے اور ظہر کی نماز کا وقفہ ہوا تو میں علماء