حیاتِ خالد — Page 235
حیات خالد 241 مناظرات کے میدان میں کر سکتے۔اس کا جواب مسلمان عوام نے ، جن کے دل میں اس وقت کم از کم اتنی غیرت موجود تھی یہ دیا کہ یہ ہمارا گھر کا معاملہ ہے آپ یہاں اپنے مذہب کو عالمگیر ثابت کریں۔اس پر آر یہ صاحبان شرمندہ ہوئے اور مسلمانوں کی طرف سے زبر دست نعرہ ہائے تکبیر بلند ہونے لگے۔جواہا ہندوؤں کی طرف سے بندے ماترم کے نعرے بھی بلند ہوئے۔صدر مجلس کا تعلق آریہ صاحبان سے تھا۔انہوں نے بڑی مشکل سے مجمع کو کنٹرول کیا اسی شور شرابہ میں مناظرہ ختم ہو گیا اور حضرت مولانا کو غیر از جماعت مسلمانوں نے اسلام کی محبت سے مغلوب ہو کر اس فتح کی خوشی میں کندھوں پر اٹھالیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔یہ تھے دین حق کے سپاہی حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری جو اپنوں اور غیروں میں یکساں مقبول تھے۔مردانہ وار لڑتے اور داد شجاعت پاتے۔آج بھی ان کے ذکر سے ہمارے سر اونچے ہو جاتے ہیں۔خدا کرے کہ ایسے خالد احمدیت ہمیشہ جماعت احمد یہ میں پیدا ہوتے رہیں“۔اسی مناظرے کا ذکر کرتے ہوئے محترم ملک محمد احمد صاحب سابق نائب وكيل التعميل والتنفيذ تحریک جدید تحریر کرتے ہیں۔۱۹۴۴ء کی بات ہے کہ خاکسار دہلی میں ملازم تھا۔آریہ سماج نے تمام مذاہب کو مناظرہ کی دعوت دی۔یہ مناظرہ روزانہ رات کو چاندنی چوک کے قریب ایک بڑے ہال میں ہوتا تھا۔جس دن مسلمانوں کی باری تھی آریہ سماجیوں نے بعض ایسی تفسیروں کے حوالوں سے جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کی معجزانہ شان کا ذکر آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ کر موجود تھا مسلمان علماء کو سخت پریشان کیا۔اور تعدد ازدواج کے اسلامی حکم پر اعتراض کر کے ہندومت کے ایک ہی بیوی سے تا عمر نباہ کرنے کی تعلیم کو اعلیٰ بتایا اور دوسرے معاملات میں بھی ہندو مذہب کی فوقیت ظاہر کی۔اس صورت حال سے مسلمان بہت رنجیدہ تھے۔آریہ سماج کے مناظر رام چندر کی بہت شہرت تھی۔قرآن کریم کی بکثرت آیات اسے یاد تھیں اور وہ متنازعہ مسائل میں ان کو پیش کر دیتا تھا جن کو حل کرنے سے مسلمان عاجز آچکے تھے۔اسی مناظرہ میں شرکت کرنے کیلئے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب قادیان سے دہلی تشریف لائے۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ میں نے انہیں مناظرے میں دیکھا۔۔اس روز غیر معمولی ہجوم تھا اور مسلمان جو پہلے مناظروں سے دل شکستہ تھے بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔مناظرے کا وقت ہو گیا مگر آریہ سماج کے مناظر رام چندر صاحب اسٹیج پر نہ آئے حالانکہ ان کے آنے کا اعلان کیا گیا تھا۔پھر ایک اور پنڈت صاحب نے آکر مناظرہ شروع کیا۔حضرت مولانا نے تقریر شروع کی اور فرمایا کہ ہر