حیاتِ خالد — Page 196
حیات خالد کا 202 مناظرات کے میدان میں کا کوئی اعتراض ایسا نہ تھا جس کا ہم نے بفضلہ تعالٰی مدلل جواب نہ دیا ہو اور کوئی تحدی نہ تھی جس کو ہم نے توڑ کر نہ رکھ دیا ہو۔بیسیوں تعلیم یافتہ غیر احمد یوں نے بلکہ بعض پیروں تک نے کھلے بندوں اپنی مجالس میں کہا کہ لال حسین قرآن وحدیث کا کوئی جواب نہ دے سکا۔تونسہ ڈیرہ غازیخان وغیرہ کے سمجھدار لوگوں نے خود جا کر ہمارے احمدی بھائیوں سے احمدی مناظر کی علمی قابلیت ، متانت، قرآن وائی اور دلائل کی مضبوطی کا ذکر کیا۔پس یہ محض خدا کا فضل تھا کہ مولوی لال حسین کی جو اس علاقہ میں بڑا عالم سمجھا جاتا تھا اس مناظرہ کے ذریعہ سے بے بضاعتی ہر کس و ناکس پر واضح ہو گئی۔چودھویں صدی کے مجدد کا مطالبہ کو تقول والے معیار کے بالمقابل نظیر کا مطالبہ، سوفی کے معنوں کے متعلق چیلنج، اعجاز امسیح کی مثل کا مطالبہ، بالتقابل بیٹھ کر اسی وقت تفسیر نویسی کا مطالبہ ، عربی کے ایک صفحہ کے صحیح پڑھ جانے کا مطالبہ وغیرہ وغیرہ ایسی باتیں تھیں جن کو مولوی لال حسین کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر بدزبانی کر رہے تھے تو میں نے تفصیلی جوابات کے علاوہ اسے کہا کہ آپ کہتے ہیں آپ آٹھ برس تک پیغامی پارٹی کے کامیاب مبلغ رہ چکے ہیں۔اب بتلائیے کہ آپ نے اس وقت یہ الہامات اور ان پر غیر احمدی مولویوں کے اعتراضات پڑھے اور سنے تھے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو آپ احمدی کیسے بن گئے! اور تبلیغ کیا کرتے تھے۔اگر سنے تھے تو جتلائیے کہ آپ ان کا کیا جواب سمجھتے تھے۔ایک دو دن کی بات نہیں اور یہ بھی نہیں کہ آپ کو توجہ نہ دلائی گئی ہو۔جن لوگوں نے مولوی صاحب کے چہرہ کو غور سے دیکھا وہ جانتے ہیں کہ اس وقت انہیں کچھ شرم ضرور آ گئی تھی جس کا ازالہ انہوں نے مزید بدزبانی کے ذریعہ سے کیا۔عام پبلک کو عموماً اور مباہلہ کرنے والوں کو خصوصاً میں نے بتلایا کہ جماعت احمد یہ اور احمد یہ عقائد سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقائد کیا ہیں۔ایام الصلح کی حسب ذیل عبارت پیش کی گئی۔ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔اور ہم ایمان لاتے