حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 197 of 923

حیاتِ خالد — Page 197

حیات خالد 203 مناظرات کے میدان میں ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ بچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن ラ شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں۔اور صوم اور صلوۃ اور زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجتماع تھا اور وہ امور جو اہلسنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے۔اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افتراء کرتا ہے اور قیامت میں ہمارا اس پر یہ دھوئی ہے۔کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔الا إِن لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ وَالْمُفْتَرِينَ" ایام اصلح - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۲۳ ۳۲۴) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ کلمات سنائے۔تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدمزادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگرمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سو تم کوشش کرو کہ کی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ"۔(کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳ - ۱۴) ایسے ہی دیگر متعدد اقتباسات سے احمد یہ عقائد کی وضاحت کی گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ نبوت کے ذکر میں مولوی لال حسین نے مغالطہ دینا چاہا اور کہا کہ وہ