حیاتِ خالد — Page 179
حیات خالد 185 مناظرات کے میدان میں دوسرے وقت از روئے حدیث مناظرہ ہوا۔اس وقت مولوی محمد یا ر صاحب ہماری طرف سے بحیثیت مدعی مناظر تھے اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی عبد الرحیم شاہ صاحب۔مولوی محمد یار صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں متعدد احادیث پیش کیں اور احادیث کی تائید میں واقعات اور حالات زمانہ کو رکھا۔غیر احمدی مناظر نے جو غیر مہذب اور فحش گو ہونے میں اپنی نظیر آپ ہے حدیث دانی سے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں اور الہامات پر بے بنیاد اور لغو اعتراضات شروع کئے مگر ہمارے مناظر نے نہایت معقول طریق سے اس کا منہ بند کر دیا۔آخر غیر احمدی مناظر نے لوگوں کو مشتعل کرنے کی غرض سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب حضرت مسیح علیہ السلام کی وادیوں اور نانیوں کو کسی اور حرام کار لکھتے ہیں اور بائبل کا حوالہ دیتے ہیں حالانکہ ساری بائبل میں یہ کہیں موجود نہیں اگر احمدی مناظر بائبل سے یہ دکھا دے تو میں مبلغ دس روپے انعام دوں گا چنانچہ دس روپے رکھ دیتا ہوں۔غیر احمدی مناظر کے اس چیلنج کو ہمارے مناظرین نے منظور کر لیا اور صدر جلسہ کے پاس جو غیر احمدی تھا روپے رکھ دیئے گئے۔جب ہمارے مناظر نے بالکل واضح طور پر ان حوالہ جات کو بائبل سے نکال کر پیش کردیا اور صدر جلسہ فیصلہ سنانے کیلئے تیار ہوا تو چونکہ ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو گا اس لئے شور مچانا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کیا کہ شرط باندھنا شریعت میں منع ہے اس لئے روپے را پس دے دو۔جب صدر نے واپس نہ کئے تو اسے مجبور کر کے چھین کر لے گئے اور دوران مناظرہ ہی بغیر وقت ختم کئے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس طرح جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهرا کیا نظارہ حداوند تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دکھا دیا۔الحمد للہ۔خاکسار محمد اسماعیل۔سیکرٹری جماعت احمدیہ الفضل ۱۳؍ جنوری ۱۹۳۱ ، صفحه ۲: کالم نمبر ۲: زیر عنوان اختبار احمد بی: جلد ۱۸ نمبر ۸۳) مناظروں میں ہنگامے اور فساد کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور پھگلہ میں ایک کرشمہ قدرت جب ایسی صورت پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت حیران کن انداز میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔حضرت مولانا کو ۱۹۳۱ء میں ایسے ہی ایک واقعہ سے سابقہ پڑا۔مولانا نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا :- اوائل ۱۹۳۱ء کی بات ہے کہ بالا کوٹ ضلع ہزارہ میں غیر احمدی علماء سے مباحثات ہوئے۔پادریوں سے کامیاب مناظرہ پہلے ہو چکا تھا۔علماء سے جو مباحثہ وفات مسیح علیہ السلام پر ہوا اس میں