حیاتِ خالد — Page 178
حیات خالد 184 مناظرات کے میدان میں دینے میں بڑی شان دار فتح حاصل ہوئی۔ایک موقعہ پر غیر احمدیوں کے مناظر مولوی محمد امین صاحب نے ایک حدیث لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے پڑھ کر سنائی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور ساتھ ہی بیان کیا یہ حدیث بخاری شریف کی ہے۔اس کے متعلق کہا گیا کہ اگر یہ حدیث بخاری شریف سے ثابت کر دیں تو ہیں روپیہ انعام کے دیئے جائیں گے۔مولوی محمد امین صاحب نے کہا لا و حدیث کی کتاب حدیث نکال کر دکھلائیں اور ساتھ ہی ہیں روپیہ بھی بھیج دیں۔اس پر بیس روپیہ اور بخاری شریف اس شخص کے ہاتھ میں دے دی گئی جو غیر احمدیوں کی طرف سے مناظرہ کا بانی تھا اور غیر احمد یوں کا امام مسجد بھی۔اس نے تین چار دفعہ اپنے مناظر مولوی محمد امین صاحب سے کہا کہ اگر یہ حدیث بخاری میں ہے تو نکال دیں اور مبلغ ۲۰ رو پیدا نعام لے لیں مگر وہ تیار نہ ہوئے اور آخر کار بخاری شریف اور میں روپے احمدیوں کو واپس کر دیے۔خاکسار عبدالغنی اخبار الفضل قادیان دار الامان : ۲۴۰ / جنوری ۱۹۳۱ء: نمبر ۸۶: جلد ۱۸ صفحه ۱۲) ۳ ۴ ر جنوری ۱۹۳۱ء کو ایک اہلحدیث مولوی دھرگ میانہ تحصیل نارووال میں مناظرہ محمدامین صاحب شاگرد مولی ثناء اللہ صاحب د سے مناظرہ مقرر ہوا۔ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب، مولوی محمد یار صاحب اور مولوی ظہور حسین صاحب تشریف لائے۔۳ /جنوری کو پہلے وقت میں وفات مسیح علیہ السلام از روئے قرآن پر مناظرہ ہونا تھا جو مولوی ظہور حسین صاحب نے کیا۔دوسرا وقت اسی مسئلہ کے متعلق از روئے حدیث تھا جو مولوی اللہ دتا صاحب نے کیا غیر احمدی مناظر نے اپنے دعوئی کا حصر حكماً عدلا۔۔۔الخ والی حدیث پر ہی رکھا اور ہمارے مناظر نے اپنے دعویٰ کی تائید میں متعدد احادیث پیش کیں اس دن کے مناظرہ کا سامعین پر یہ اثر ہوا کہ بہت سے غیر احمدی مایوس ہو گئے اور خود اقرار کیا کہ واقعی ہمارے مناظر سے کچھ نہیں بن سکا بلکہ بعض اس قدر بد دل ہو گئے کہ اگلے دن کے مناظرہ میں شامل نہ ہوئے۔دوسرے دن صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرہ ہوا۔ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب بحیثیت مدعی مناظر تھے۔آپ نے ۳۴ آیات قرآنی پر زور طریق پر پیش کیں جس کا سامعین پر خاص اثر ہوا۔اس کے مقابلہ میں غیر احمدی مناظر نے بجائے قرآن مجید سے استدلال کرنے کے جو از روئے شرائط مناظرہ مقررتھا، محمدی بیگم والی پیشگوئی پر تقریر شروع کر دی۔مولوی اللہ دتا صاحب نے اس پیشگوئی کی حقیقت اور اس کے پورا ہونے کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا۔اس مسئلہ کے متعلق