حیاتِ خالد — Page 156
حیات خالد 162 مناظرات کے میدان میں ضروری ہوا کہ وہ بلحاظ اپنی عظمت کے خاتم الخلفاء کہلائے“۔النبوۃ فی الاسلام : صفحه ۳۰۱) عظمند بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ پھر خاتم الانبیاء کیوں بلحاظ اپنی عظمت کے خاتم الانبیاء نہ کہلائے؟ غرض ایسے مختلف طریقوں سے اہلِ پیغام پر حجت تمام کی گئی مگر ان کا مقصود تحقیق حق نہ تھا اس لئے نہ انہوں نے مانا تھا نہ مانا۔بلکہ حسب شرائط جو ہماری آخری تقریر تھی اس کے سننے سے لوگوں کو مختلف بہانوں سے باز رکھا اور چند پیغامی خود اٹھ کر دوسروں کو اٹھانے کا موجب بنے۔طرفہ یہ کہ اس برائی کو چھپانے کیلئے یہ لکھ دیا کہ مولوی اللہ دتا کی تقریر سے لوگ بد مزہ ہو رہے تھے حیران ہوں ایک پیغامی چرب زبانی کا شاکی ہے۔دوسرا تقریر کی بدمزگی کا گلہ گذار۔آخر کون جھوٹا ؟ اور کون سچا ہے؟ ان تمام عیاریوں کے باوجود بفضلہ تعالیٰ اہل پیغام کو چھوڑ کر شریف ہندو تک بھی ہمارے حق میں تھے۔۱۳ ستمبر کو دعوی نبوت مسیح موعود علیہ پیغامیوں کی طرف سے نبوت مسیح موعود کا انکار السلام پر مناظرہ ہوا اس روز ہماری طرف سے جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب صدر تھے جس میں پیغامی مناظر نے بحیثیت مدعی پہلی تقریر کی۔یعنی حضور کے دعوی نبوت سے انکار پیش کیا اور بقول نامہ نگار ”پیغام صلح بتلایا کہ حضرت صاحب کے اقوال میں نبوت اور رسالت کا لفظ بے شک آیا ہے اور ہمیں اس سے انکار نہیں اور ہم اب بھی مانتے ہیں مگر انہی معنوں کی رو سے جن معنوں کو خود حضرت مرزا صاحب نے بیان کر کے معاملہ کو صاف کر دیا ہے۔۔۔اور فرمایا ہے کہ اس نبوت سے مراد صرف محد ثیت ہے اور اس نبوت کے معنے کو صرف محدثیت تک محدود فرمایا ہے اس سے بڑھ کر نہیں۔قادیانی فریق لفظ نبی ورسول کو تو لیتے ہیں۔مگر حضرت صاحب کے بیان کردہ معانی کو چھوڑ جاتے ہیں۔ہم اہل قادیان سے پوچھتے ہیں کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی کیا ہوتا ہے؟ مثلاً ایک گلاس پانی میں چند تو لے دودھ ڈال دیا جائے تو دودھ اور پانی کی اجتماعی حالت ایک تیسرا نام پیدا کرے گی جسے چھاچھ کہتے ہیں۔اسی طرح ہمیں بتایا جائے کہ نبی اور امتی کی اجتماعی حالت کیا ہے؟ جس طرح پانی اور دودھ کی حالت اجتماعی دودہ نہیں ہو سکتی اسی طرح امتی اور نبی کی حالت اجتماعی نبی نہیں ہوسکتی۔بلکہ وہ محدث ہے“۔(۳۰ ستمبر ۱۹۲۹ء) اس ژولیدہ بیانی کے بالمقابل ہماری تقریر سے متعلق پیغامی را وی لکھتا ہے :۔