حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 141 of 923

حیاتِ خالد — Page 141

حیات خالد واپس آگئے۔147 مناظرات کے میدان میں مولوی اللہ دتا صاحب ۲۳ / اگست ۱۹۲۹ء کوه مری مری میں غیر مبائعین کو کھلی ہر سمت تشریف لائے۔غیر مباکین اور غیر احمدیوں نے ہمیں چیلنج دے رکھا تھا۔چنانچہ میاں محمد یعقوب صاحب شال مرچنٹ نے اپنا چیلنج اور اگست کے زمیندار میں چھپوا بھی دیا تھا۔ہم نے ان کے چیلنج کی منظوری کی اطلاع دے دی تھی اور یہ بھی لکھ دیا تھا آپ لوگ اپنے مناظرین بلا لیں۔جب ہم لوگ شرائط طے کرنے کیلئے میاں صاحب موصوف کے مکان پر گئے تو انہوں نے فرمایا ان کی طرف سے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب پیغامی مناظرہ کریں گے۔مناظرہ کرانے سے میاں صاحب کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ وہ معلوم کرنا چاہتے تھے غیر مباھین اور مہاکھین میں سے کون حق پر ہے۔مگر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو اپنا نمائندہ بنا کر انہوں نے ایک مدعی فریق کے فرد کو اپنا وکیل بنالیا۔حالانکہ ایک منصف کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرنے کیلئے مدعی یا مد عاعلیہ میں سے کسی ایک کو اپنا وکیل بنالے۔بہر حال ہم نے ان کیلئے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی نمائندگی کو قبول کر لیا۔ہمیں تو احقاق حق اور ابطال باطل منظور تھا۔بعد از نماز جمعہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ شرائط مناظرہ طے کی گئیں۔اشتعال انگیزی ڈاکٹر صاحب کی یہ کوشش تھی کہ غیر احمدیوں کو ہمارے خلاف بھڑ کا ئیں چنانچہ وہ بار بارلوگوں سے کہتے دیکھو یہ لوگ تم کو کافر کہتے ہیں۔مولوی اللہ دتا صاحب یہ چاہتے تھے کہ شرائط مناظر و اصولی طور پر ملے ہو جائیں مگر شاہ صاحب ان کو بار بار مسئلہ کفر و اسلام کی طرف گھسیٹتے اور لوگوں کے جذبات کو ہمارے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتے۔آخر کار شرائط مناظرہ کے دوران میں ہی مولوی صاحب نے شاہ صاحب کے نفاق کی قلعی کھول دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے ثابت کر دیا کہ مسئلہ کفر و اسلام میں مبائع جماعت کا مذہب عین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذہب اور فرمودہ کے مطابق ہے۔جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو ان کی حیرت اور استعجاب کی کوئی حد نہ رہی اور اکثروں نے بعد میں ہمارے پاس بیان کیا کہ جماعت احمدیہ کی لاہوری پارٹی غیر احمد یوں سے چندہ لینے کیلئے اپنے عقائد چھپاتی ہے اور بعض نے کہا یہ لوگ نہایت خطرناک اور منافق طبع ہیں۔ایک نے کہا ایں ہمہ از پئے آنست کہ زرمے خواہد۔