حیاتِ خالد — Page 140
حیات خالد 146 مناظرات کے میدان میں چمن ہتھیلی میں اس قدر پانی لیوے کہ وہ پانی حلق سے نیچے ہر د یہ تک پہنچے۔پانی نہ اس سے کم ہو۔نہ زیادہ۔پھر ہتھیلی کے کنارہ اور اس کی درمیانی جگہ کو ہونٹھ سے لگا کر آ چمن کرے۔اس سے حلق کا بلغم اور صفرا کسی قدر دفع ہوتے ہیں“۔(صفحہ ۴۶) اور پھر آریہ سماجی مناظر سے دریافت کیا کہ کیا یہ سب کچھ کرنے سے تو یکسوئی میں کوئی فرق نہیں آتا؟ نماز تو اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی تذلیل ہے۔اس میں سب طریقہ ہائے تعلیم موجود ہیں۔کانوں پر ہاتھ رکھنا ، ہاتھ باندھنا، انہی جلال کے تصور کے آگے جھک جانا بلکہ زمین پر گر جانا بندہ کی یکسوئی بلکہ خشوع و خضوع کی دلیل ہے۔اس کے بعد آپ نے بتایا کہ بے شک نماز میں انبیاء اور بنی نوع کی بھلائی کیلئے دعا ہے مگر چونکہ وہ بنی نوع انسان کے عظیم الشان محسن تھے اس لئے احسان شناسی کے طور پر مسلمان ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہیں جو کوئی معیوب بات نہیں لیکن گائتری منتر میں تو اندریوں کا نام آتا ہے۔کیا ان پر غیر اللہ کا لفظ نہیں بولا جا سکتا۔اس کے بعد مولوی صاحب نے پوچھا کہ ہؤن نہ کرنے والے کو سوامی دیانند جی مہاراج نے شود ر اور انار یہ قرار دیا ہے۔اب بتایا جائے کہ کستوری ، زعفران اور گھی وغیر ہ بیش قیمت اشیاء کو نذر آتش کرنے کی طاقت ہندوستان ایسے مفلس اور نادار ملک میں کتنے لوگوں کو ہو سکتی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ و یدک دھرم کی بتلائی ہوئی عبادات ناممکن العمل اور ناقص ہیں اس کے مقابلہ میں اسلامی عبادات نہایت جامع مکمل ، آسان اور ممکن العمل ہیں۔ان اعتراضات کا جواب پنڈت رام چندر صاحب آخر وقت تک مطلقاً نہ دے سکے۔آریہ پبلک پر مرونی سی چھا گئی اور مسلمان نہایت شاداں و فرحاں نظر آنے لگے۔اختتام مناظرہ پر مسلمانوں نے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے درمیان مولوی صاحب کو رخصت کیا۔الحمد للہ کہ مناظرہ نہایت کامیاب رہا۔(الفضل ۲ را گست ۱۹۲۹ صفحه ۲) اس مباحثہ کے فوری بعد ۳۰ جولائی ۱۹۲۹ء کے الفضل میں صفحہ اول پر دہ یہ امسیح “ کے عنوان کے تحت مناظرہ کے بارے میں ذیل کی مختصر خبر شائع ہوئی تھی۔۲۶ / جولائی۔آریہ یودک سماج دینا نگر کے جلسہ پر مولوی اللہ دتا صاحب فاضل جالندھری اور پنڈت رام چندر صاحب دہلوی کے مابین نماز اور سندھیا کے موضوع پر ایک زبر دست مناظرہ ہوا جس میں احمدیوں کو خدا کے فضل سے نمایاں کامیابی ہوئی۔بہت سے دوست قادیان سے بھی گئے جو شام کو