حیاتِ خالد — Page 133
پھر لکھا ہے۔( انجام آنتم صفحه ۳۲ حاشیه ) فیصلہ تو آسان ہے۔احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے۔پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۲۔حاشیہ ) اس اشتہار کے بعد حضرت مسیح موعود بارہ سال تک زندہ رہے۔مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ سلطان محمد سے تکذیب کا اشتہار دلاتا۔پس حضرت اقدس کا دعوئی برحق ہے اور سلطان محمد کی موت کی تاخیر کی وجہ ظاہر ہے۔دعید سے بچنے کیلئے بیعت شرط نہیں جیسا کہ سورہ دخان کی آیت ۱۶ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سے ظاہر ہے۔مولوی صاحب کے اس واضح استدلال کا حافظ صاحب سے کوئی جواب نہ بن سکا۔حافظ صاحب نے بمشکل ۴ بجے تک وقت گزاری کی۔پھر سانس توڑ بیٹھے۔آخر مولوی کرم الدین صاحب نے جو اس وقت صدر تھے اپنے مناظر کی کمزوری دیکھ کر بقیہ وقت کی معافی طلب کی۔چونکہ حق واضح ہو چکا تھا اس لئے ان کی درخواست کو منظور کر لیا گیا۔۲۵ / نومبر کو پہلے مناظرہ میں غیر احمدیوں کی جانب سے مولوی ثناء اللہ امرتسری پیش ہوئے اور ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مناظر تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے پہلے آدھ گھنٹہ میں تین اعتراض کئے۔(۱) يُدْفَنُ مَعِيَ فِى قَبْرِى (٢) لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجّ الرَّوْحَاءِ (۳) سلطان محمد کیوں نہ مرا۔احمدی مناظر نے ۱۵ منٹ میں ہر ایک اعتراض کے کئی کئی جوابات پیش گئے۔جن کو مولوی صاحب آخر تک نہ توڑ سکے۔يُدْفَنُ مَعِيَ فِی قَبْرِی کے پانچ جوابات دیئے گئے۔اول: یہ ابن جوزی کی روایت ہے جو ہرگز قابل استناد نہیں۔دوم: اس حدیث میں مذکور ہے کہ ابو بکر اور عمر کی قبروں کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حجرہ میں جگہ متعین کر دی تھی لیکن یہ بات بخاری کی حدیث کے صریح خلاف ہے۔جس میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے بوقت وفات حضرت عائشہ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ