حیاتِ خالد — Page 128
حیات خالد 134 مناظرات کے میدان میں ہے۔غرض ان کی زندگی موت سے بدل گئی کیونکہ وہ جسمانی موت سے ڈر گئے۔مگر مسیح محمدی کے زندہ کئے ہوئے پتھروں سے سنگسار کئے جاتے ، وطنوں سے جلا وطن کئے جاتے، جائیدادوں سے محروم ہو جاتے مگر اس آب حیات سے منہ نہ موڑتے بلکہ انکا شوق اور بھی بڑھتا جا تا گویا موت ان پر آ ہی نہیں سکتی۔اس لئے تو ہم کہتے ہیں۔این مریم کے ذکر کو چھوڑو اس نے بہتر غلام احمد ہے پادری: مرزا صاحب نے مسیحیت کا دعویٰ تو کر دیا مگر ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے ڈر گئے اور اقرار کرلیا کہ میں آئندہ انذاری پیشگوئی شائع نہیں کروں گا۔احمدی آپ کس منہ سے یہ اعتراض کرتے ہیں جبکہ مسیح ناصری جنہیں آپ خدا کا بیٹا مانتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ وہ یہود کے خوف سے مارے مارے پھرتے ہیں بلکہ اپنے حواریوں کو بتا کید یہ نصیحت کرتے ہیں۔لکھا ہے :- پھر اس نے انہیں تاکید کی کہ میری بابت کسی سے یہ ( کہ میں ہی مسیح ہوں ) نہ کہنا ( مرقس ۸: ۳۰) اور عید میں جانے سے بھی اس بناء پر انکار کیا۔لکھا ہے :- وو دنیا تم سے عداوت نہیں کر سکتی لیکن مجھ سے کرتی ہے کیونکہ میں اس پر گواہی دیتا ہوں کہ اس کے کام برے ہیں تم عید میں جاؤ میں ابھی اس عید میں نہیں جاتا۔(یوحنا :) اور پھر عملاً اس کے خلاف کیا۔لکھا ہے :- جب اس کے بھائی عید میں چلے گئے اس وقت وہ بھی گیا ظاہر انہیں بلکہ گویا پوشیدہ (یوحنا : ١٠) اب تو گویا یک نہ شد دو خد " والی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ڈپٹی کمشنر کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنے مذہب کے مطابق حکام کی اطاعت کو ضروری سمجھتے تھے۔موت کی پیشگوئیوں پر ہی حضرت مرزا صاحب کی صداقت منحصر نہ تھی اور نہ ہی آپ کا مقصد بعثت موت کی پیشگوئیاں شائع کرنا تھا۔آپ سے اصرار کیا جاتا تو آپ عدد عید کیلئے خدا تعالیٰ کی تقدیر کا فیصلہ ظاہر کرتے۔یہی دستور العمل آپ کا اوّل سے آخر تک قائم رہا۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پادری: مرزا صاحب نے حضرت مسیح کو گالیاں دی ہیں۔