حیاتِ خالد — Page 123
حیات خالد " 129 مناظرات کے میدان میں طریق پر میں آؤں گا میں بھی نکل سکتی ہے۔باقی حضرت مسیح کے ظاہری الفاظ تو کسی رنگ میں بھی پورے نہیں ہو سکتے۔دیکھئے وہاں لکھا ہے۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اس کی بادشاہت میں آتے ہوئے نہ دیکھ لیں گے موت کا مزہ ہر گز نہ چکھیں گئے۔(متی ۱۶: ۲۸) کیا وہ تمام لوگ جو کھڑے تھے مر نہیں گئے ؟ پھر حضرت مسیح کے الفاظ ظاہر پر ہی محمول کرنا خود حضرت مسیح کی تکذیب کرنا ہے۔پادری مسیح کی آمد ثانی جیسا کہ اناجیل میں مذکور ہے جلال اور شوکت کے ساتھ ہو گی۔وہ آ کر خفیہ نہ رہے گا بلکہ لوگ اسے آسمان سے آتے دیکھیں گے۔مرزا صاحب کیسے میچ ہوئے کہ ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں میں مبعوث ہو گئے۔وہ جلال اور شوکت بھی ان کے ساتھ نہیں۔احمدی: دراصل آپ انجیل سے واقف نہیں ورنہ ایسی بات نہ کہتے انجیل میں لکھا ہے۔خداوند کا دن اس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے (۱۔تسلونیقیوں ۳:۵) پھر لکھا ہے اس (مسیح) نے جواب میں ان سے کہا کہ خدا کی بادشاہت ظاہر طور پر نہ آئے گئی۔(لوقا ۲۰:۱۷ ) پس ضرور تھا کہ مسیح ثانی نا گہاں اور خفیہ آتا نہ کہ ظاہری بادشاہت کے ساتھ۔پادری حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف تو مرزا صاحب مثیل مسیح بنتے ہیں مگر دوسری طرف ان سے بڑے بھی بنتے ہیں۔این مریم کے ذکر کو چھوڑو اس بہتر غلام احمد ہے حالانکہ مشابہت اور تشبیہ میں مشبہ یہ اعلیٰ اور افضل ہوتا ہے لہذا اگر مرزا صاحب مثیل مسیح سے بنے تھے تو انہیں مسیح سے کم درجہ پر ماننا پڑے گا۔احمدی: حیرت کی کوئی بات نہیں مثیل موسی ، موسٹی سے بڑھ کر ہو تو مثیل مسیح مسیح سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔مسلمان آنحضرت کو موسیٰ کا مثیل مانتے ہیں مگر ان سے اعلیٰ اور افضل اسی طرح ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مثیل مسیح مانتے ہیں مگر مسیح سے ہر شان میں افضل یقین کرتے ہیں۔تشبیہ کا یہ قاعدہ