حیاتِ خالد — Page 917
حیات خالد 899 متفرقات صاحب سے ملاقات کی۔۱۳۔ہر دو بزرگان فسادات پنجاب کے بعد قائم ہونے والی منیر انکوائری کمیشن کی کارروائی میں ۱۴ شامل تھے۔ہر دو بزرگان کو اللہ تعالٰی نے لندن کی سب سے پہلی مسجد - مسجد فضل میں تقاریر کرنے اور خطبات جمعہ و درس القرآن دینے کی سعادت عطا فرمائی۔۔۔۱۵۔ہر دو بزرگان کو متعدد بار پر امیر مقامی بننے کا شرف بھی حاصل ہوا۔۔ہر دو بزرگان کو حضرت مصلح موعودؓ نے از راہ شفقت جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے موقع پر خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا۔۱۷۔خدا کے فضل سے ہر دو بزرگان کی اولاد میں بھی وقف کا سلسلہ جاری ہے۔-۱۸ ہر دو بزرگان کے ایک ایک بیٹے کو مسجد فضل لندن سے منسلک ہوتے ہوئے مبلغ اسلام کے طور پر خدمت کا موقع ملا۔خدمت کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔"" ۱۹۔ہر دو بزرگان وفات کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے اور ہر دو کے مزار چاردیواری کے قریب ایک ہی قطعہ خاص میں ہیں۔و ابوالعطاء جالندھری حضرت مولا نا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے حالات زندگی اور سیرت کے بارہ میں یہ کتاب حیات خالد آپ کے ہاتھ میں ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ کے بارہ میں اس سے قبل بھی ایک کتاب ”ابوالعطاء جالندھری کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔یہ دراصل ایک مقالہ تھا جو جامعہ احمدیہ کے طالب علم مکرم محمد افضل ظفر صاحب نے لکھا اور بعد ازاں کتابی شکل میں شائع ہوا۔( تعداد صفحات ۲۶۴) مکرم محمد افضل ظفر صاحب ان دنوں کینیا ( مشرقی افریقہ ) میں مبلغ سلسلہ کے طور پر خدمت سلسلہ بجالا رہے ہیں۔☆