حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 906 of 923

حیاتِ خالد — Page 906

حیات خالد " 887 پہلی اور آخری ملاقات گلاس سیرت محترم بریگیڈئرمحمد وقیع الزمان خان صاحب) حضرت مولانا ابوالعطاء مرحوم و مغفور سے خاکسار کی پہلی بالمشافہ ملاقات ۱۹۳۵ء میں ہوئی تھی جب کہ خاکسار تیرہ چودہ برس کا تھا۔اور آخری ملاقات ۱۹۷۵ء میں جامعہ احمدیہ کی ایک تقریب میں ہوئی تھی۔اس چالیس سال کے عرصہ میں حضرت مولوی صاحب موصوف کو دیکھنے اور سنے اور آپ سے مستفیض ہونے کا بفضلہ تعالیٰ کافی موقع ملا۔مرحوم جماعت احمدیہ کے ایک بطل عظیم تھے۔اور دعوت الی اللہ کے میدان میں آپ کو ایک فتح نصیب جرنیل کا مقام حاصل تھا۔جس کو حضرت مصلح موعود نے اپنے خالد کے خطاب سے نوازا تھا۔آپ ماشاء اللہ علم اور فضل اور تقویٰ کے ایسے بلند مقام پر فائز تھے۔کہ مجھ جیسا عام انسان جو سرکاری ملازمت اور کسب معاش اور غمہائے روزگار کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا آپ پر بہت دور سے اور بہت نچلی سطح سے ہی نظر ڈال سکتا تھا۔عامتہ الناس کے لئے آپ کی تحریروں اور تقریروں اور درس و تدریس کا جو دریائے فیض جاری تھا اس سے اپنے ظرف اور استعداد اور توفیق کے مطابق فیض یاب ہو سکتا تھا۔مذکورہ دونوں ملاقاتیں جونکہ بالمشافہ تھیں ایک لڑکپن میں اور دوسری عمر کے آخری حصہ میں۔اور دونوں نے میری ذات اور شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔اس لئے ان کو ضابطہ تحریر میں لانے کو دل چاہتا ہے۔مگر یا لواسطہ کسب فیض کی ابتداء پہلی ملاقات سے بھی بہت پہلے ہو چکی تھی۔خاکسار بمشکل نو دس سال کا ہوگا کہ میرے والد صاحب محترم ( رفیع الزماں خاں صاحب مرحوم و مغفور ) نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی مشہور اور نابغہ روزگار تصنیف ”تفہیمات ربانیہ جو کہ ایک ضخیم کتاب ہے میرے اس وقت کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں تھما دی اور تین چار صفحات پر نشان لگا کر ارشاد فرمایا کہ ان کو زبانی یاد کر کے انہیں سناؤں۔اپنی عمر اور آج کل کے نو دس سال کے بچوں کے دینی علم کا معیار دیکھ کر اب خاکسار کو خود حیرت ہوتی ہے کہ اس وقت ان صفحات کو صحیح طور پر پڑھنے اور یاد کرنے اور مضمون کو صحیح طور پر سمجھ کر الفاظ کو مناسب زیر و بم کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق کس طرح حاصل ہوگئی۔بہر حال جب والد صاحب کی اپنی تسلی ہو گئی تو اگلی عید پر نماز کے بعد تمام احباب جماعت کے سامنے آپ نے یہ آموختہ