حیاتِ خالد — Page 900
حیات خالد 881 گلدسته سیرت میں خود مولانا صاحب سے بات کر کے معافی کی سفارش کر دیتا ہوں۔مولانا صاحب سے محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی بات ہوئی اور اس کے بعد حضرت مولانا صاحب نے خاکسار کو فرمایا کہ سفارشوں کی ضرورت نہیں۔آپ فورار بوہ چلے جائیں۔خاکسار نہایت بوجھل دل کے ساتھ لاہور سے روانہ ہو کر رات ربوہ پہنچ گیا۔اگلے روز دو پہر کے قریب مجھے حضرت مولانا صاحب کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی کہ بلا تاخیر لاہور پہنچو اور آکر کام سنبھالو۔حضرت مولانا صاحب دراصل خاکسار کی عملی تربیت ہی کرنا چاہتے تھے کہ ذمہ داری کی بجا آوری میں کوئی کوتاہی یا غفلت جائز نہیں اور پھر جو تربیتی نسخہ تجویز ہوا ہو اس میں تاخیر یا اجتناب کی روش جائز نہیں۔یہ ساری کاروائی دراصل اس عاجز کی تربیت اور رہنمائی کی غرض سے ہی تھی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اس سے بہت فائدے حاصل ہوئے ہیں۔اللہ تعالی ہمارے ان مہربان محسن وجودوں کو نہایت بلند مناصب پہ اپنے خاص قرب میں رضا اور رحمت کے ٹھنڈے سائیوں میں رکھے۔آمین سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مولانا صاحب کو " خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا تھا۔الحمداللہ خاکسار کو دور طالب علمی میں اور بعد ازاں بطور مربی سلسلہ جہاں بھی بفضلہ تعالی کام کرنے کا موقعہ ملا۔حضرت مولانا صاحب کے معرکة الآراء لیکچرز ، مباحثے اور مجالس سوال و جواب سے استفادہ کے ان رکعت مواقع ملے۔اور ہر دفعہ آپ کے علمی دلائل اور دفاعی حربوں کی نئی شان ہوتی تھی۔اور کبھی کسی معاد احمدیت کے لئے ممکن نہ ہو سکا کہ آپ کے دلائل کا مدال جواب دے سکے۔دراصل یہ حضرت مولانا کے علمی معارف کا ہی ثمر ہے کہ آج ہر مربی بفضلہ تعالی ہر میدان میں کامیابی سے فرائض بجالا رہا ہے اور شاگردی کے فیوض سے استفادہ کر رہا ہے۔الحمد للہ۔انسانی زندگی تو محدود ہوتی ہے۔لیکن ایسے بزرگوں کا فیضان کئی لبادوں میں جاری رہتا اور پیاسی روحوں کی تسکین اور سیرابی کا ذریعہ بنا رہتا ہے۔حضرت مولانا صاحب کے فیضان کا چشمہ تفہیمات ربانیہ کی شکل میں آج بھی جاری وساری ہے۔اور علم و معرفت کا گویا ایک سمندر ہے۔اللہ تعالیٰ اس فیض کے چشمہ کو ہمیشہ بھولے بھنگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے رکھے اور علمی ذوق والوں کی تسکین اور فلاح کا موجب بنائے رکھے۔آمین۔ا ☆☆