حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 879 of 923

حیاتِ خالد — Page 879

حیات خالد 860 گلدستہ سیرت کے لئے بھی جاتے خاص طور پر ایسے موقعوں پر ضرور شمولیت کی کوشش فرماتے جبکہ جنازہ کے ساتھ جانے والوں کی تعداد کم ہوتی۔مقصد یہ ہوتا کہ مرحوم یا مرحومہ کے ورثاء کی دلداری ہو۔حضرت ابا جان کا درس القرآن بہت مقبول تھا۔بہت معلوماتی اور دلچسپ ہوتا تھا۔تلاوت قرآن مجید کا بھی ایک خاص دلر با انداز تھا۔ترجمہ اور تفسیر بھی وقت کی رعایت سے بہت جامعیت سے بیان فرماتے تھے۔بہت پرانی بات ہے ایک رمضان المبارک میں آپ کے درس کے دن آنے والے تھے مجھے خیال آیا کہ ابا جان کا درس ریکارڈ کروالیا جائے (ان دنوں ابھی ریکارڈنگ کا طریق اس قدر رائج نہیں تھا ) اس خیال سے کہ اس ریکارڈنگ کا ابا جان کو پتہ نہ چلے اور درس اپنے اصل معروف انداز میں ہی ریکارڈ ہو جائے ، میں نے مکرم قاضی عزیز احمد صاحب انچارج ریکارڈنگ سے درخواست کی کہ سارا درس ایک ٹیپ پر ریکارڈ کر دیں اور اس طریق پر کریں کہ حضرت ابا جان کو اس کا علم نہ ہو سکے۔میں نے ٹیپ ان کو خرید کر دی اور انہوں نے ایمپلی فائر سے براہ راست سارا درس جو تین چار دن کا تھا ریکارڈ کر دیا۔گھر آنے پر میں نے ابا جان کو بتایا کہ آپ کا سارا درس ریکارڈ کروا لیا ہے تو فرمانے لگے کہ بتا تو دینا تھا کہ ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔میں نے تو درس میں چند لطائف بھی سنا دیئے ہیں میں نے کہا کہ بس اسی لئے تو آپ کو پہلے بتایا نہیں تھا کہ آپ کے اصلی انداز میں ریکارڈنگ ہو سکے۔سوالحمد للہ کہ ریکارڈنگ ہمارے پاس محفوظ ہے۔اسی ریکارڈنگ سے لے کر صرف تلاوت کی ایک الگ آڈیوٹیپ بھی تیار کی گئی ہے۔مجھے وہ دن یاد ہے جب آپ کو حضرت مصلح موعودؓ نے خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا۔جلسہ سالانہ کی تقریر میں یہ ذکر ہوا تھا۔جلسہ سن کر گھر آنے پر حضرت ابا جان سے ملاقات ہوئی۔مبارکباد عرض کی۔میرے پیارے ابا جان جذبات سے اس قدر مغلوب تھے کہ زبان سے کچھ کہنا مشکل ہو رہا تھا۔بڑی ہی عجیب کیفیت تھی۔خاکساری، عاجزی اور شکر گزاری کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔بات شروع کرتے تو پھر جذبات سے مغلوب ہو جاتے۔ایسی کیفیت تھی کہ آج ۴۸ سال بعد بھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے میری آنکھیں اس منظر کو یاد کر کے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ہیں۔میرے لئے وہ منظر اور وہ کیفیت نا قابل فراموش ہے۔نا قابل بیان ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابا جان کے درجات ابدالآباد تک بلند سے بلند کرتا چلا جائے۔آمین۔