حیاتِ خالد — Page 838
حیات خالد 827 گلدستۂ سیرت جا کر کار میں بٹھا دیا کہ اس طرح سب کے ملنے سے زیادہ اداسی ہو جاتی ہے۔بعد میں میری بہنیں وغیرہ مجھے مذاق بھی کرتی رہیں کہ تم تو کسی سے ملے بغیر ہی جلدی سے چلی گئیں۔میرے لیبیا جانے کے بعد بھی روزانہ دفتر سے واپس آکر حسب معمول مجھے آواز دیتے۔پھر امی جان سے کہتے وہ تو نجانے کہاں ہوگی۔میں ایسے ہی بلاتا ہوں۔ه محترم عبد الرحمن صاحب انور مرحوم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی اہلیہ ثانی کے بھائی تھے۔آپ اقرباء سے حسن سلوک کے بارے میں لکھتے ہیں :- ۱۹۴۷ء میں پارٹیشن کے موقعہ پر جبکہ میں نے اپنے لیے بطور درویش قادیان میں رہنے کا ارادہ کیا ہوا تھا اور جب مولوی صاحب بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پہنچے تو ان کو معلوم ہوا کہ خاکسار اور مکرم والد صاحب حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہو تالوئی ابھی تک اپنے مکان واقع محلہ دار البرکات میں ہی ہیں تو انہوں نے مکرم راجہ محمد نواز صاحب ساکن ڈلوال کو تیار کیا کہ وہ ایک پولیس مین کے ساتھ جا کر ہم دونوں کو بورڈنگ میں لے آئیں۔چنانچہ پولیس مین سے 10 روپے فی کس کے حساب سے فیصلہ ہوا۔مکرم راجہ محمد نواز صاحب نے آکر ہما را دروازہ کھٹکھٹایا۔انہوں نے صورت حال سے اطلاع دی اور میں اور مکرم والد صاحب مکان سے نکل کر بورڈنگ پیچھے۔مکرم مولوی صاحب بورڈنگ سے باہر ہی انتظار میں تھے۔وہ ہم دونوں کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور ہمارے لئے بوجہ بورڈنگ میں جگہ نہ ہونے کے پاس ہی ایک مکان سفینہ صادق میں ٹھہرنے کا انتظام کیا اور چند دن وہاں نہایت اطمینان سے گزارے پھر اندرون قصبہ آگئے۔پارٹیشن کے بعد لاہور آنے پر جب میری ڈیوٹی ربوہ میں لگی اور میرے اہل وعیال لاہور میں تھے تو مکرم مولوی صاحب نے احمد نگر میں ایک علیحدہ مکان کا انتظام کیا جس کے دو کمرے تھے۔ان حالات میں ایسے مکان کا مل جانا بھی بہت غنیمت تھا۔مولوی صاحب پہلے سے ہی احمد نگر آچکے تھے۔اس طرح میں روزانہ احمد محمر سے سائیکل پر ربوہ آ جاتا اور شام کو اپنے اہل وعیال کے پاس پہنچ جاتا۔۱۹۷۴ء اور ۱۹۷۵ء میں جب کہ مولوی صاحب مرکزی قائد انصار اللہ تھے انہوں نے مکرم صدر صاحب انصار اللہ کی منظوری سے مجھے اپنا نائب قائد انصار اللہ مقرر کیا۔چنانچہ کئی سال تک آمده خطوط انصار اللہ کے جوابات میں ہی اپنے دستخطوں سے دے دیا کرتا تھا اور سارے عرصہ میں کوئی الجھن پیش (ماہنامہ تحریک جدید دسمبر ۱۹۸۳ء صفحه ۵ -۶) نہ آئی۔