حیاتِ خالد — Page 820
حیات خالد 809 گلدستۂ سیرت خصوصی اہتمام کرتے۔میرے بہنوئی چوہدری عبد القدیر صاحب مرحوم جب بھی قادیان سے ربوہ آتے تو ضرور ان کو بلا کر چائے پلاتے۔اکثر میں بھی ان کے ساتھ چائے پر حاضر ہوا کرتا تھا۔مکرم راجہ محمد مرزا خان صاحب صو بیدار لکھتے ہیں :- ایک دفعہ میں چند یوم کے لئے اپنے کسی کام سے ربوہ آیا ہوا تھا۔تو حضرت مولوی صاحب نے کمال محبت سے مجھے اپنے گھر واقع دارالرحمت وسطی میں کھانے پر مدعو کیا“۔محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب لکھتے ہیں : - ۱۹۷۱ء میں مرکز کے حکم پر خاکسار گھانا سے ربوہ پہنچا۔اس دوران حضرت خلیفہ المسح الثالث نے مربیان سلسلہ کے لئے شروع کیے جانے والے پہلے ریفریشر کورس کا مجھے انچارج مقرر فرمایا۔ریفریشر کورس کے اس عرصے میں محترم مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم قریباً روزانہ تشریف لایا کرتے اور اس کورس کے اختتام پر محترم مولانا نے ذاتی طور پر اس ریفریشر کورس کے شرکاء کیلئے اپنے گھر پر پارٹی کا انتظام فرمایا۔اس سے محترم مولانا صاحب مرحوم کی مربیان اور خصوصاً اپنے غیر ملکی شاگردوں سے محبت و شفقت اور مہمان نوازی کا علم ہوتا ہے۔زمانہ طالب علمی میں ربوہ میں احمد یہ جرنلسٹس ایسوی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔خاکسار نائیجیریا سے شائع ہونے والے جماعتی ہفت روزہ اخبار ٹروتھ TRUTH کا نمائندہ ہونے کی 66 حیثیت سے اس ایسوسی ایشن کا ممبر تھا۔محترم مولانا صاحب مرحوم اس ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔چنانچہ یہ آپ کی مہمان نوازی اور طبیعت کی شگفتگی تھی کہ جب بھی اس ایسوسی ایشن کا کوئی اجلاس ہوتا تو اس کے دعوت نامہ پر ہمیشہ آپ کی طرف سے یہ مختصر تحریر ضرور ثبت ہوتی کہ مختصر چائے کا بھی انتظام ہوگا لیکن چائے کے ساتھ کچھ مٹھائی اور بسکٹوں کا انتظام ضرور ہوتا۔سب ممبران ان اجلاسوں میں بڑے شوق سے شامل ہوتے۔مکرم صوبیدار ریٹائر ڈ فضل قادر اٹھوال صاحب مرحوم نے بیان کیا:- چونکہ میں ماہنامہ تحریک جدید میں کام کرتا تھا اس لئے مولانا کے گھر میں مجھے کبھی کبھار جانے کا موقع میسر آ جاتا۔مولانا کبھی بھی چائے پلائے اور مٹھائی برفی وغیرہ کھلائے بغیر واپس جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔یہ ان کا معمول تھا۔بے حد مہمان نواز تھے۔ایک دفعہ میں نے اپنے بیٹے کو تین