حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 821 of 923

حیاتِ خالد — Page 821

حیات خالد 810 گلدستۂ سیرت چار پرندے دے کر جو وہ شکار کر کے لایا تھا مولانا صاحب کے پاس بھیجا کہ وہ میری طرف سے بطور ہد یہ اخوت انہیں پہنچا دے۔حسب معمول انہوں نے میرے بیٹے کی بھی چائے اور مٹھائی سے تواضع کی۔میرے بیٹے نے بطور خاص ان کی اس مہمان نوازی اور محبت و شفقت کا ذکر واپسی پر میرے سامنے کیا۔اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند کرے۔آمین و مکرم امدادالرحمن صاحب صدیقی مربی سلسله مہمان نوازی کی صفت کے بارے میں لکھتے ہیں:۔حضرت مولانا بہت مہمان نواز تھے۔خواہ دفتر ہو یا گھر۔مہمانوں کو کھائے پیئے بغیر نہیں جانے دیتے تھے۔میں نے بہت دفعہ ان کے گھر پر اصرار کیا کہ میں چائے نہ پیوں گا مگر آپ نہ صرف یہ کہ چائے پلاتے بلکہ ساتھ کچھ نہ کچھ لوازمات بھی ضرور ہوتے تھے۔مجھے شرم آتی تھی کہ میرے جیسا حقیر انسان اور وہ بھی کم عمر طالب علم اور حضرت مولانا جیسے چوٹی کے عالم دین ! کوئی مناسبت نہیں تھی۔حضرت مولانا کو عربوں کا یہ طریق بہت پسند تھا کہ عرب لوگ لازماً مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے تھے اور مسلمان عرب جب بھی کسی دوسرے کے ہاں جاتے تھے تو خالی ہاتھ نہیں جاتے تھے۔چنانچہ مولانا نے مجھے بھی ایک بار تا کیدی نصیحت کی کہ جب کسی کے ہاں جاؤ تو کچھ نہ کچھ لے کر جایا کرو۔اس سے محبت بڑھتی ہے۔مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب لکھتے ہیں :- مولانا کی زندگی میں جتنی بار ربوہ گیا وہ بڑی محبت سے یاد فرماتے۔قادیان کے حالات کی تفصیل دریافت فرماتے اور زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کرتے اور اپنے ملک کے جماعتی وتبلیغی حالات بیان فرماتے اور اس روحانی غذا کے ساتھ ساتھ موسم کے لحاظ سے نفیس اعلیٰ اور مرغوب مشروبات سے مہمان نوازی فرماتے۔مشروب بھی معہ متعلقات مٹھائی و نمکین ہوتا۔اور یہ مجلس ایک بار نہ ہوتی بلکہ میرے قیام ربوہ کے دوران بار بار ہوتی۔یہاں تک کہ میں بعض اوقات بار بار کی تواضع اور مہمان نوازی سے ہچکچاتا تو فرماتے۔چوہدری صاحب ! آپ کو میں الگ نہیں سمجھتا۔آپ کے ساتھ بار بار ملنے اور گفتگو کرنے سے بہت خوشی ہوتی ہے۔مکرم صو بیدار عبدالمنان صاحب دہلوی لکھتے ہیں :- حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضور کی ملاقات کیلئے روزانہ ربوہ آنے والے مہمانوں کیلئے مشروبات مہیا کرنے کی ذمہ داری پر حضرت مولوی صاحب کو مقرر فرمایا۔آپ نے وقف عارضی کے