حیاتِ خالد — Page 818
حیات خالد 807 گلدسته سیرت صحافت ) محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب لکھتے ہیں :- ایک دفعہ لائکپور ( حال فیصل آباد) میں آل پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا۔خاکسار بھی احمد یہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا ممبر ہونے کی حیثیت سے اجلاس میں شامل ہوا۔اس موقعہ پر محترم مولانا صاحب مرحوم نے صحافت کے متعلق جن خیالات کا اظہار فرمایا اس کو سب حاضرین نے بہت پسند کیا اور ان پر محترم مولانا کی صحافت کی دھاک بیٹھ گئی۔محترم مولانا صاحب مرحوم کی صحافتی عظمت کا ثبوت آپ کا ماہنامہ الفرقان“ تھا۔جو ہمیشہ نہایت علمی مضامین اپنے دامن میں سمیٹے ہر ماہ منظر عام پر آتا تھا۔بحیثیت منتظم مجلس ارشاد 0 محترم پروفیسرسعود احمد خان صاحب تحریر فرماتے ہیں:- حضرت خلیفہ انسبح الثالث نے اپنی امامت کے آغاز میں ہی مجلس ارشاد کے لیکچروں کا سلسلہ شروع فرمایا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو اس کا منتظم و منصرم مقرر فرمایا۔میرے گھانا سے آنے کے بعد ایک ایسی ہی تقریب میں محترم مولانا عبد المالک خان صاحب مرحوم کے ساتھ مجھ کو بھی اس میں موقع عنایت فرمایا۔میں نے جمع القرآن پر مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات پر مقالہ پیش کرنے کی سعادت پائی۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے صدارت کی۔خاکسار نے مقالہ پیش کیا تو بہت خوش ہوئے اور اپنے صدارتی ریمارکس میں فرمایا کہ مجلس ارشاد کے ماتحت بعض ایسے مقالے پیش کیے گئے کہ ان میں سے جلسہ سالانہ کے پروگرام بنانے میں مددمل سکتی ہے۔چنانچہ اسی سال اسی موضوع پر حضرت مولانا صاحب اور محترم مولانا عبد المالک خان صاحب نے عاجز کو جلسہ سالانہ کے شبینہ پروگرام میں شامل فرمایا۔جزاھم اللہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اللہ تعالیٰ نے جن خدا داد اوصاف مهمان نوازی حسنہ سے نوازا تھا ان میں ایک خاص صفت آپ کی مہمان نوازی تھی۔یہ صفت اگر امراء میں ہو تو شاید کوئی غیر معمولی بات نہ سمجھی جائے لیکن حضرت مولانا جیسا متوسط طبقے کا فردا گر اپنی مہمان نوازی کی صفت میں غیر معمولی طور پر مشہور ہو تو بے شک یہ صفت خصوصی توجہ کی مستحق ہو جاتی ہے۔اور ہر جاننے والے کو حیرانی یہی ہوتی ہے کہ اس قدر وسیع مہمان نوازی پر اٹھنے والے اخراجات