حیاتِ خالد — Page 817
حیات خالد 806 گلدت ه مکرم میر غلام احمد صاحب نسیم ایم۔اے سابق استاذ جامعہ احمدیہ فرماتے ہیں:- در میانه قد ، دہرا جسم، بڑی بڑی آنکھیں، بارعب چہرہ۔رنگت سپید سرخی مائل گھنی داڑھی ، سر پر پگڑی ، شلوار کرتے اور شیر اونی میں ملبوس ، گرج دار آواز ، مناظرانہ طرز تکلم، تقریر کے دھنی۔یہ ہیں ہمارے استاد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری جن کو ہم سے جدا ہوئے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔کئی جلدوں میں شائع ہونے والے سلسلہ کتب اصحاب احمد اور تابعین اصحاب احمد، جیسی زبر دست تاریخی اہمیت کی کتب کے مرتب و مؤلف محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے سابق ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ قادیان لکھتے ہیں۔یہ متوکل علی اللہ مجاہد احمدیت ، خوش شکل ، مناسب قامت ، خوش خلق، باوقار اور سنجیدہ شخصیت تھے۔بے خوفی اور خود اعتمادی آپ کے وجیہہ چہرے پر مرتسم تھی۔وسیع تبلیغی مہمات کی وجہ سے خوفی کے مرتسم وجہ جماعتوں کے اکا بر عوام سے آپ کے وسیع بے تکلفانہ مراسم تھے۔حضرت مولانا کی صاحبزادی محترمہ امت الرحمن صاحب لکھتی ہیں :- آپ نہایت سادہ مزاج تھے۔لباس صاف ستھرا اور مکمل پہنتے تھے۔یعنی قمیض شلوار اچکن سفید چپگڑی ، شروع شروع میں آپ سبز پگڑی باندھا کرتے تھے جو اس دور میں اکثر خادمان احمدیت کا گویا امتیازی نشان ہوا کرتا تھا۔بعد میں مسلسل سفید پگڑی کا ہی استعمال رہا۔چہر ہ ہمیشہ متجسم رہتا۔باوضور ہتے۔محترم عطاء الحجیب صاحب راشد لکھتے ہیں :- حضرت ابا جان مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بہت اعلیٰ صفات حسنہ سے نوازا تھا۔ان میں سے ایک آپ کا یہ طریق تھا کہ درس ہو یا تقریر یا کسی نوعیت کی مجلس سے خطاب ہو، ہمیشہ باوضو ہو کر فرماتے۔اس بات کا بہت اہتمام فرماتے تھے اور فرمایا کرتے کہ تقریر سے پہلے وضو کرنا چاہیئے اس سے خیالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکیزگی عطا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت شامل ہو جاتی ہے۔اس اہتمام کے علاوہ بھی میں نے یہ بات آپ میں دیکھی کہ آپ عام اوقات میں بھی باوضور بنے کی کوشش فرماتے اور جب بھی وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت ہوتی تو اولین فرصت میں اس کا اہتمام فرماتے یہ بات آپ کی ذہنی اور قلبی کیفیات کی آئینہ دار ہے کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نفاست پسند تھے۔لباس سادہ ہوتا لیکن صاف ستھرا۔جسمانی صفائی کا بھی بہت اہتمام فرماتے۔