حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 816 of 923

حیاتِ خالد — Page 816

حیات خالد 805 گلدستۂ سیرت میں اسلام کی ساری تصویر اپنے اندر رکھتے تھے۔چہرہ پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔مناظروں میں بھی آپ کا طریق یہ تھا کہ مخالف کی سخت بات کے جواب میں مسکرا کر بات کرتے تھے۔میجر حمید احمد کلیم صاحب نے دو جملوں میں گویا کوزے میں دریا بند کر دیا۔آپ نے لکھا ہے:۔آپ کے چہرے پر بشاشت کا نور نمایاں ہوتا تھا۔باوجود متعدد بیماریوں کے آپ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے تھے۔بے شک میجر صاحب کے یہ دو جملے کئی عبارتوں پر حاوی ہیں۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔مکرم قریشی محمد عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں : - حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے۔آپ ایک خوش پوش، خوش خوراک ، خوش ذوق ، خوش فکر اور خوش سیرت بزرگ تھے۔ه مکرم شیخ خادم حسین صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولانا کی شخصیت نہایت جاذب نظر تھی۔مسکراتا نورانی چہرہ اور شیر میں کلام جو دل کو شگفتہ کر دیتا تھا اور آپ کی زندہ دلی اس شگفتگی کو اور بھی بڑھا دیتی تھی۔مکرم امدادالرحمن صاحب صدیقی مربی سلسلہ حضرت مولانا کے سراپا کے بارے میں لکھتے ہیں:۔ظاہری لحاظ سے بھی حضرت مولانا بہت خوبصورت اور وجیہہ تھے۔باوقار، پراثر ، پر کشش اور دلکش وجود کے مالک تھے۔مگر بہت سادہ تھے۔ظاہری صفائی کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔مناسب لباس پہنتے تھے یعنی سفید پگڑی۔شلوار قمیض اور اچکن، جوتا موزے۔ملنے کے لحاظ سے بہت ملنسار اور ہنس مکھ تھے۔طرز گفتگو اور زبان بہت عمدہ اور پاکیز تھی۔ہر کس و ناکس سے نہایت خندہ پیشانی اور پیار ومحبت سے ملتے۔ہر ملنے والا خواہ اجنبی ہو یا واقف کا راحمدی ہو یا غیر احمدی اس پر اثر لہجے اور محبت سے اس سے بات کرتے کہ وہ ضرور متاثر ہو جاتا۔ہر واقف اور ملنے والا یہی خیال کرتا تھا کہ حضرت مولانا مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب قادیان دارالامان سے لکھتے ہیں۔خندہ پیشانی ، کھلتا ہوا رنگ، شرعی داڑھی، مناسب قد، بھرا ہوا جسم، سر پر پگڑی اور شلوار اور اچکن پہنے ہوئے یہ ہیں ہمارے بزرگ عالم اور مناظر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم جو تقریر وتحریر اور مناظرہ کے میدانوں میں کامیاب رہے۔آپ کی خدمات سلسلہ کا عرصہ پچاس سال تک پھیلا ہوا ہے۔