حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 788 of 923

حیاتِ خالد — Page 788

حیات خالد 777 گلدستۂ سیرت ۱۹۶۹ء میں خاکسار بھی اس کلاس میں شامل ہوا۔یکو والی نہر پر چیک بھی منائی گئی۔آپ با وجود پیرانہ سالی کے طلباء کے ساتھ پیدل تشریف لے گئے۔واپسی پر اصرار کر کے آپ کو ٹانگے پر بٹھایا گیا۔ه مکرم عبدالحلیم اکمل صاحب فرماتے ہیں :-۔غالباً ۵۲ - ۱۹۵۱ء کی بات ہے جب ہم جامعہ احمد یہ احمد نگر میں مصروف تعلیم تھے۔تو حضرت مولانا موصوف نے ہمارے لئے نہر پر پکنک کا انتظام فرمایا۔حضرت مولانا صاحب گئے وقتوں کے ملاؤں اور علماء کی طرح نہ تھے۔بلکہ اپنی باقاعدہ مذہبی حج دحج کے باوجود احمدیت کی دی ہوئی روشن مذہبی تعلیم کی وجہ سے ایک روشن دماغ عالم تھے اور وہ اسی طرح کا ہم طالب علموں کو بھی بنانا چاہتے تھے۔اس لئے طالب علموں کی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور تفریح کا بھی بہت خیال رکھتے تھے اور اس طرح کی تفریح کے پروگرام بنا کر اس سے دو ہرا فائدہ حاصل فرماتے تھے۔یعنی کھیل کا کھیل تفریح کی تفریح اور تعلیم و تدریس گویا مفت۔چنانچہ آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس پکنک کے موقع پر جامعہ احمدیہ کی ہائی کلاسز کا آپس میں ایک مناظرہ بھی ہوگا اور جیتنے والے گروپ کو انعامات بھی دیئے جائیں گے۔چنانچہ اس کلینک کے موقعہ پر ہم سب طلباء جامعہ احمدیہ بڑے شاداں و فرحاں گئے اور گرمی کے موسم میں نہر کے ٹھنڈے پانی میں تیر کر بہت محظوظ ہوئے۔اس موقعہ پر آپ نہایت لذیذ کھانے بھی تیار کروایا کرتے تھے۔چنانچہ اس دن بھی پلاؤ اور زردہ تیار ہوا جو سب نے مزے سے کھایا اور اس موقعہ سے خوب لطف اٹھایا۔کھانے کے بعد نماز ظہر و عصر ہوئی۔حضرت مولانا کے علاوہ دیگر اساتذہ جامعہ اور مہمان بھی مدعو تھے تا کہ مناظرہ میں ثالث بنائے جاسکیں۔چنانچہ نہایت دلچسپ مناظرہ ہوا جس کا عنوان تھا " تقریر زیادہ مفید ہے یا تحریر" معزز مہمان بزرگوں میں اور اساتذہ کرام جامعہ میں حضرت مولانا کے علاوہ محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر ، مکرم مولا نا قریشی محمد نذیر صاحب ملتانی، مکرم ابوالحسن صاحب قدسی ، اور اصحاب حضرت مسیح موعود میں سے حضرت بابو فقیر علی صاحب موجود تھے۔خاکسار نے بھی حصہ لیا۔حضرت مولانا نے میرے دلائل کو بطور خاص پسند فرمایا اس طرح سے آپ نے میری بے حد حوصلہ افزائی فرمائی۔در حقیقت آپ ہر وقت اپنے طالب علموں کی دینی وعلمی ترقی کا خاص خیال رکھتے تھے۔