حیاتِ خالد — Page 789
حیات خالد 778 گلدستۂ سیرت علمی مقام اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کو بہت گہرے اور ٹھوس علم سے نوازا تھا۔آپ نے کبھی اس پر فخر نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو ساری زندگی ایک طالب علم سمجھا اور علمی ترقی میں کوشاں رہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تقریر یا تحریر کا وقت آتا اور بالخصوص جب عد مقابل کوئی غیر احمدی یا غیر مسلم ہوتا تو پھر آپ اسلام کی عظمت بیان کرنے میں دریا کی سی روانی دکھاتے۔آپ کے مناظرات اس بات پر خوب گواہ ہیں۔0 میں لکھتے ہیں :- مکرم خواجہ خورشید احمد صاحب سیالکوئی مرحوم حضرت مولانا کے علمی مقام کے بارے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری عالم باعمل اور عظیم مناظر ہی نہ تھے بلکہ حضرت مولوی صاحب کی محققانہ حیثیت پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا قطعا مبالغہ نہ ہو گا کہ تحقیق کے میدان میں بھی آپ ایک بلند مرتبہ رکھتے تھے اور دین حق کے علاوہ تحقیقی اعتبار سے غیر مذاہب کا مطالعہ بھی خوب تھا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو علمی استعداد بھی ایسی عطا فرمائی تھی کہ حضرت مولانا کا مقام ایک علامہ کا مقام تھا۔یہودیت ہو کہ عیسائیت بر همو ازم ہو کہ دیا نندی، دنیائے مذاہب کا کوئی بھی معروف مذہب ہو، ہر مذہب پر حضرت مولانا کو عبور تھا، اور سب کی حقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ پر عیاں تھی اور ہر ذہب کے وکیل کے مقابل حضرت مولوی صاحب ہمہ وقت کمر بستہ رہتے تھے۔تقریر کے میدان کے تو آپ شاہسوار تھے ہی تحریری میدان میں بھی اخبارات ورسائل میں مولانا نے بے شمار علمی اور تحقیقی مضامین لکھ کر اپنی نیک شہرت کو چار چاند لگا رکھے تھے۔اپنے اور بیگانے سبھی حضرت مولانا کے قلمی کارناموں کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔مکرم عطاء الجیب صاحب راشد اس سلسلہ میں کہا پیر کے ایک احمدی دوست کی روایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حیفا جماعت کے موسیٰ بن عبد القادر صاحب نے ایک بار لندن میں مجھ سے ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ سے فضل و کرم سے حضرت ابا جان مرحوم و مغفور کے مناظرات کے نتیجہ میں سارے فلسطین میں آپ کی