حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 777 of 923

حیاتِ خالد — Page 777

حیات خالد 766 گلدسته سیرت واپسی پر گھر لے گئے اور چائے پلائی اور ساتھ جو بھی گھر میں میسر ہوا بڑی خوشی سے پیش کیا۔اس سیر پارٹی کی رونق اور روح حضرت مولوی صاحب کا وجود تھا۔سیر کی یہ عادت بڑی پہنتی تھی اور اس میں علالت یا اہم دینی مصروفیت اور سفر کے علاوہ عموماً کوئی ناغہ نہ ہوتا۔سیر کے دوران حضرت مولوی صاحب دیگر گفتگو کے علاوہ سیر کے اراکین سے ہلکا پھلکا مزاح بھی کیا کرتے تھے۔اس طرح سے یہ میرا ایک دلچسپ اور پر لطف تقریب میں بدل جایا کرتی تھی۔محترم پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب مرحوم ایم اے سابق پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوہ لکھتے ہیں :- جب مولوی ابو العطاء صاحب دار الرحمت وسطی میں اپنے گھر میں مقیم ہوئے تو ہم لوگ آپ کے ساتھ باقاعدہ سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔صبح کی نماز کے بعد ہونے والی اس سیر کے مولوی ابوالعطاء صاحب امیر ہوا کرتے اس میں شامل ہونے والوں میں مولانا نسیم سیفی صاحب، صوفی خدا بخش صاحب، مسعود احمد صاحب دہلوی سابق ایڈیٹر الفضل اور بعض دوسرے احباب بھی شامل ہوا کرتے تھے۔پہلے ہم نے سیر کے لئے جو روٹ طے کیا وہ دار الصدر غربی کا ریلوے کراسنگ اس کے بعد لائن کے ساتھ ساتھ سگنل تک جاتے پھر نیچے اترتے۔یہاں امر دو اور دوسرے پھلوں کا ایک باغ تھا۔مولوی صاحب میں مہمان نوازی کی جو خاص صفت پائی جاتی تھی اس کا اظہار یوں بھی ہوتا کہ باغ میں جاتے تو ضرور مولوی صاحب سب کو امر دو کھلاتے۔کھیچیاں کی طرف جاتے تو وہاں بھی امرودوں کا ایک باغ تھا۔مولوی صاحب وہیں امرود اتر واتے اور سب حاضرین کی ضیافت کرتے۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ سیر کے بعد سب احباب مولوی صاحب کے گھر جمع ہو جاتے اور کبھی ایسا نہ ہوا کہ مولوی صاحب نے منٹوں میں چائے تیار کروا کے حاضرین کو نہ پلائی ہو۔ساتھیوں نے بعض اوقات کہا بھی کہ مولوی صاحب آپ تکلف نہ کیا کریں لیکن مولوی صاحب کی عادت اس قدر پختہ معلوم ہوتی تھی کہ گھر میں جو بھی آجائے اس کی مہمان نوازی ضرور کرتے تھے۔مکرم صو بیدار فضل قادر احوال صاحب صبح کی سیر کے بارے میں لکھتے ہیں :- رح حضرت مولوی ابو العطاء صاحب صبح کی سیر باقاعدگی سے کرتے تھے۔صبح کی نماز سے فارغ ہوتے ہی مسجد سے سیر کرنے والے روانہ ہو جاتے۔راستہ میں سے صوفی خدا بخش صاحب، چوہدری عبدالجبار صاحب اور بشیر نظام صاحب اور دیگر احباب بھی ساتھ مل جاتے۔مولانا کی مجلس میں وہ وقت