حیاتِ خالد — Page 774
حیات خالد 763 گلدستۂ سیرت آج دو پہر کو بعد کھانا کچھ غنودگی ہو گئی۔رویا میں دیکھا کہ دو دیہاتی جماعتوں کی طرف سے آپ کو حج پر بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ان جماعتوں کا نام تو مجھے یاد نہیں رہا البتہ ایک سید والا جماعت ہے جو غالبا گوجرانوالہ ضلع یا شیخو پورہ ضلع کی ہے اور پھر آپ کے نام کے ساتھ سید کا لفظ ہے۔رویا میں میں کہتا ہوں کہ مولا نا قومیت کے لحاظ سے گو سید نہیں البتہ چونکہ قوم میں ان کا وقار اور عزت ضرور ہے اس لئے سید کہلانے کے ضرور مستحق ہیں۔میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حج ایسی مبارک عبادت کی توفیق ضرور عطا فرمائے گا اور حج بدل کی صورت میں۔الحمد للہ میری صحت پہلے سے زیادہ بہتر ہے۔تاہم دعاؤں کا محتاج ضرور ہوں۔الفرقان : حج کی سعادت حاصل ہونے کی تمنا تو مدتوں سے ہے مگر ہر کام کے لئے اذن الہی سے وقت مقرر ہوتا ہے۔اس سال میں نے حکومت پاکستان سے اجازت حاصل کرنے کے لئے درخواست بھی کی تھی۔اس نیک کام کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ نے اعانت فرمانے کا عملی ثبوت بھی مہیا فرمایا تھا۔مگر افسوس کہ اس سال حکومت کے قرعہ میں میرا نام نہیں آسکا۔محترمی ملک عزیز احمد صاحب پرانے بزرگ ہیں۔اللہ کرے ان کا یہ رویا اسی طرح پورا ہو کہ اس نابکا رکوزیارت حرمین شریفین نصیب ہو جائے۔اللھم آمین ( الفرقان مئی جون ۱۹۶۱ء صفحہ ۱۰۱۔ایڈیٹر کی ڈاک ) حضرت مولا نالج کی شدید تڑپ رکھنے کے باوجود اپنی زندگی میں حج پر نہ جاسکے۔اوپر کے درج شدہ نوٹ کے بعد بھی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دور خلافت میں حضرت مولانا نے ایک بار پھر حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی اور حضور سے اس بارے میں اجازت کی درخواست کی۔اس وقت (۱۹۷۴ء کے بعد ) پاکستانی احمدیوں پر حج کی پابندی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔مکرم عطاء الحبیب صاحب راشد بیان کرتے ہیں کہ حضور انور نے فرمایا جب پابندی ہے تو پھر جانا مناسب نہیں۔خدانخواستہ الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔الغرض حضرت مولانا کو حج کی ایک تڑپ تھی مگر اس کی تسکین کے سامان پیدا نہ ہو سکے۔ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کو خواب میں بتایا گیا کہ اس سال چھ لاکھ لوگوں نے حج ادا کیا لیکن ایک فرد کا بھی حج قبول نہیں ہوا۔مگر دمشق کا ایک موچی جو حج میں تو شریک نہیں ہوا لیکن خدا نے اس کا حج قبول فرما کر اس کے طفیل میں سب کا حج قبول کر لیا۔(تذکرۃ الاولیاء مطبوعہ ۱۹۹۰ء صفحه ۱۰۸) اسی سے ملتا جلتا ایک خواب محترم کیپٹن محمد حسین صاحب چیمہ مرحوم کا ہے وہ ۱۹ار ستمبر ۱۹۹۰ ء کی