حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 755 of 923

حیاتِ خالد — Page 755

حیات خالد۔744 گلدستۂ سیرت منزلیں طے کرتا جاتا ہے۔یہ ضروری ہے کہ استاد اور شاگرد کا باہمی رابطہ عمر بھر قائم رکھا جائے۔الحمد لله ثم الحمد للہ کہ خاکسار نا چیز اور خاکسار کے رفقاء تمام شاگردوں کے دلوں میں اپنے نہایت مہربان و محبوب فاضل استاد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کی بڑی تعظیم تھی۔موصوف بھی ہمارے ساتھ غیر معمولی طور پر شفقت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔غرضیکہ ہمارے اور محترم مولانا صاحب کے درمیان گہر ا مخلصانہ مشفقانہ روحانی رشتہ تھا۔جو نہ صرف تحصیل علم کے دوران رہا بلکہ جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے کے بعد بھی ساری زندگی قائم رہا۔(الفضل ۵/ جون ۱۹۷۹ ء صفحه ۵) استاذی الکترم مرحوم جہاں یہ دیکھ کہ خوش ہوتے تھے کہ ان کے شاگرد زیور علم سے آراستہ و پیراستہ ہو کر میدان عمل میں خدمت دین بجا لا رہے ہیں وہاں طبعی طور پر وہ اس بات سے بھی بہت خوش ہوتے تھے کہ ان کے شاگردان کے ساتھ رابطہ قائم رکھتے ہیں اور اس بارے میں وہ بہت حساس تھے جب خاکسار نا چیز کبھی ان سے ملاقات کرتا یا انہیں باہر سے ان کی مزاج پرسی اور دعا کے لئے خط لکھتا تو وہ غیر معمولی طور پر بہت خوشی و محبت کا اظہار کرتے تھے۔۲۷ - ۱۹۲۶ء میں سر کے ہولناک مرض کا خطر ناک مرحلہ گزرنے کے بعد (اس وقت اللہ تعالی نے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث اور دیگر مخلصین جماعت کی دعاؤں کے طفیل معجزانہ طور پر خاکسار کو گو یا نئی زندگی عطاء فرمائی تھی ) جب خاکسار کچھ لکھنے پڑھنے کے قابل ہو گیا تو خاکسار نے ریڈ یم وارڈ میوہسپتال لاہور سے مرحوم کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھا۔جس پر جواہا آپ کا شفقت نامہ دعا پر مشتمل موصول ہوا۔اظہار مسرت فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ آپ ایسے شاگرد ہیں جو عموماً یا درکھتے ہیں اور رابطہ قائم رکھتے ہیں۔ورنہ کئی تو بھول گئے ہیں۔نیز دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقبول خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ( الفضل ۶ رجون ۱۹۷۹ ء ) مکرم مولا نا عبد المنان صاحب شاہد مرحوم مربی سلسلہ لکھتے ہیں :۔استاذی المکرم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ہمارے نہایت ہی پیارے مشفق ، مہربان اور ہمدرد استاد تھے۔ان کو نہ صرف یہ کہ ہمارے ظاہری و باطنی علم کے بڑھانے کا خیال رہتا تھا بلکہ وہ ہماری روحانی لحاظ سے کامل اصلاح اور کامل ترقی کی طرف خاص توجہ دیتے تھے۔آپ کے چہرہ پر ہمیشہ بشاشت اور مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔آپ فرمایا کرتے کہ جو طالب علم بشاشت کے ساتھ استاد کی طرف پورا دھیان نہیں دیتا وہ پورے طور پر استاد کا فیضان حاصل نہیں