حیاتِ خالد — Page 708
حیات خالد 697 گلدستۂ سیرت کی میں شاہ سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھتا ہوں اور اس سے بھی میرے دل میں حضرت مولانا کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔0 حضرت مرزا عبدالحق صاحب سابق امیر صو بائی پنجاب نے رقم فر مایا: اللہ تعالی نے آپ میں بہت سی خوبیاں رکھی تھیں۔بڑے متقی اور پرہیز گار۔نماز با جماعت کے سختی سے پابند چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی رضائے الہی کا خیال رکھتے۔سفروں میں بھی آپ نماز تہجد کی پابندی کرتے اور قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت فرماتے“۔( الفضل ۲۷ رجون ۱۹۷۹ صفحه ۵ ) محترم نورالدین صاحب خوشنویس جن کو حضرت مولانا کے رسالہ الفرقان اور آپ کی 0 کتب کی کتابت کا اعزاز حاصل رہا ہے لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اعلیٰ درجہ کے عالم باعمل تھے۔میں نے اکثر دار الرحمت غربی کی مسجد ناصر میں ان کو عجیب محویت کے عالم میں نماز پڑھتے دیکھا جس میں انتہائی عاجزی اور انکساری پائی جاتی۔0 ہیں لکھتے ہیں :- " مکرم امداد الرحمن صاحب صدیقی شاہد جن کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور مربی سلسلہ جب حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی رہائش مسجد مبارک کے قریب تھی تو آپ ہمیشہ پانچوں نمازوں میں بلا ناغہ مسجد مبارک میں حاضر ہوا کرتے تھے۔نماز سے خاصا وقت پہلے جاتے۔عین امام کے پیچھے جگہ حاصل کرتے۔نمازوں کی باجماعت ادا ئیگی میں یہ غیر معمولی اہتمام آپ جیسے مصروف اور کثیر الاشغال بزرگ کے لئے میرے نزدیک حیران کن تھا۔الفضل میں شائع شدہ ایک مضمون میں مکرم امدادالرحمن صاحب نے لکھا۔0 نماز باجماعت کا آپ بہت ہی اہتمام فرماتے۔از حد مصروفیت کے باوجود نماز با جماعت کا التزام جاری رکھتے۔مسجد میں جانا گویا آپ کی روح کی غذا تھی“۔(الفضل، ارجون ۱۹۷۷ صفریم ) بگرم عطاء المجیب صاحب راشد لکھتے ہیں :- ہر سچا احمدی اللہ تعالی کے فضل سے نمازوں کا اہتمام کرنے والا ہوتا ہے۔حضرت ابا جان کی زندگی میں یہ اہتمام بہت ہی نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔دار الرحمت وسطی میں ہمارا مکان "بیت العطاء" ایسی جگہ پر واقع تھا کہ دو محلوں کی مسجدوں کے درمیان میں پڑتا تھا۔دارالرحمت وسطی کی مسجد نصرت