حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 632 of 923

حیاتِ خالد — Page 632

حیات خالد ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 627 آخری ایام حضرت مولانا مرحوم سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نامور عالم اور مبلغ ،ممتاز خطیب اور بلند پایہ مصنف اور صحافی تھے۔اوائل عمر سے زندگی کے آخری لمحہ تک دینی خدمات میں مصروف رہے۔ایک لمبے عرصے تک ہلا دعر بیہ اور برصغیر میں خدمات اسلام میں مصروف رہے۔آپ نے جامعہ احمدیہ اور جامعتہ المبشر بین میں بطور پرنسپل کام کیا اور سینکڑوں قابل شاگرد اپنا ورثہ چھوڑے۔مجلس کار پرداز کے صدر اور ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد کی حیثیت سے آپ نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔وقف عارضی اور تعلیم القرآن کے کام نہایت خوش اسلوبی سے ادا کئے اور جماعت میں تعلیم و تربیت کے ایک نئی رو چلا دی۔آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ کی بیش بہا خدمات دینیہ کے باعث حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو ” خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا۔لاریب آپ احمدیت کے ایک جانباز اور وفادار سپاہی تھے۔حق و باطل کی معرکہ آرائی میں رسالہ ”الفرقان“ کے ذریعہ بھی شاندار خدمات انجام دیں۔مجلس خدام الاحمدیہ پر آپ کا یہ احسان ہے کہ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی اجازت سے رسالہ تحمید الاذہان کا دوبارہ اجراء فرمایا اور پھر اس رسالہ کو مجلس کے سپرد کر دیا مجلس خدام الاحمدیہ نے آپ سے جب کبھی کسی موقعہ پر مختلف مقامات پر تربیتی جلسوں میں شمولیت کے لئے درخواست کی آپ نے بڑی بیٹاشت سے مجلس کے ساتھ تعاون فرمایا۔اللہ تعالی نے آپ کو یہ سعادت بھی عطا فرمائی کہ آپ نے اپنی اولاد کو خدمت دین کے لئے وقف کیا اور آپ کے چھوٹے فرزند مکرم عطاء المجیب صاحب را شد کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں مختلف عہدوں پر کام کرنے کے علاوہ بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ بھی کام کرنے کی توفیق میسر آئی۔آپ کی وفات ساری جماعت کے لئے ایک عظیم صدمہ کا باعث بنی ہے۔ہم جملہ ممبران مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالی محترمہ بیگم صاحبہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور آپ کے جملہ لواحقین کے ساتھ شریک غم ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور خدمت دین کا اعلیٰ معیار جس میں آپ کو منفرد حیثیت حاصل تھی اسے قائم رکھنے کی ہمیں توفیق بخشے۔آمین الفضل ۶ ارجون ۱۹۷۷ء صفحہ آخر ) تمام ممبرات لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو " خالد احمدیت ، کامیاب مبلغ ، مثالی مقرر و لجنہ اماءاللہ مرکزیہ مناظر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی وفات سے شدید صدمہ