حیاتِ خالد — Page 572
حیات خالد ایمان افروز روایت 566 ذاتی حالات مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر حضرت مولانا کی شادی کے حوالہ سے ایک بہت ہی نادر اور ایمان افروز روایت بیان کی جائے جو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا اور حضرت مصلح موعود کی شفقت و محبت پر خوب روشنی ڈالتی ہے۔پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اس رشتہ کی تجویز حضرت اماں جان کے کہنے پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائی تھی۔حضرت مولانا کے ایک شاگرد مکرم پروفیسر محمد سلطان اکبر صاحب سابق صدر شعبہ عربی گورنمنٹ تعلیم الاسلام کا لج و سابق استاذ جامعہ احمد یہ ربوہ روایت کرتے ہیں کہ :۔ایک دفعہ آپ (حضرت مولانا۔ناقل ) ربوہ سے کسی تربیتی دورہ پر ہمارے چک نمبر ۳۵ جنوبی سرگودھا تشریف لے گئے۔رشتوں کی بات چلی کسی دوست نے سوال کیا کہ کیا شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا: احادیث کی رو سے ایسا جائز ہے۔پھر اس ضمن میں اپنا واقعہ سنایا کہ جب آپ کی پہلی بیوی وفات پاگئیں تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے از راہ شفقت و محبت آپ کے لئے محترم مولانا عبدالرحمن انور صاحب کی ہمشیرہ محترمہ کا رشتہ تجویز فرمایا۔آپ نے حضور سے اپنے خادمانہ تعلق کی بناء پر عرض کیا کہ میں اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔اس پر حضور خاموش ہو گئے اور اندرون خانہ جا کر حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ دتا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہے تو کیا کرنا چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ لڑکی والے ایسا کرنے میں تر دو محسوس کریں۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے حضور سے فرمایا : جا کر اسے میری طرف سے کہہ دیں کہ میں اس کی ماں ہوں مجھ پر اعتبار کرے۔لڑکی شکل وصورت کے لحاظ سے اپنے بھائی عبد الرحمن انور سے مشابہہ ہے۔حضرت مولانا نے فرمایا: اس پر میں خاموش ہو گیا اور اپنا مطالبہ چھوڑ دیا۔چنانچہ اس مبارک خاتون کے بطن سے جس کا رشتہ حضرت فضل عمر اور حضرت اماں جان جیسی دو با برکت ہستیوں نے تجویز کیا تھا، وہ اولاد پیدا ہوئی جو خدمت دین کے میدان میں نامور ہوئی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی نوجوان کو نیک رفیقہ حیات عطا کرے۔آمین حضرت مولانا نے حیاۃ ابی العطاء کے تحت انعامات الہیہ کا کچھ نیک بیوی۔اللہ کا احسان کر کے زیرعنوان اپنی پہلی اہلیہ کی وفات اور پھر اہلیہ ثانیہ سے عقد کا ذکر یوں فرمایا : - اب میں اجمالی طور پر رب کریم کے ان احسانوں کا ذکر کرتا ہوں جو اس نے مجھ پر میری اولاد