حیاتِ خالد — Page 509
حیات خالد 499 محمود ایدہ اللہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت پر دال ہیں۔تصنیفات اس موضوع پر حضرت مولانا نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جلسہ سالانہ ۱۹۶۱ء پر۔خلافت راشدہ تقریر فرمائی جسے نظارت اصلاح وارشاد نے شائع کیا۔آپ نے سور ونور کی آیت استخلاف کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے بعد خلافت راشدہ کے ذریعہ امت مسلمہ کی شیرازہ بندی اور اس کے استحکام کو بیان کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور اور پھر آنحضرت کے نقش قدم پر خلافت علی منہاج نبوت کے قیام اور اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں اسلامی فتوحات کا تذکرہ کرتے ہوئے ناقدین کو قبول حق کی دعوت دی ہے۔حضرت مولانا کے قلم سے ۲۵۶ صفحات کی یہ تالیف ۸ - القول المبين في تفسير خاتم انبين پہلی بار دسمبر ۱۹۶۳ء میں مکتبہ الفرقان ربوہ نے شائع کی جسے بعد ازاں نظارت اصلاح و ارشاد نے بھی دوبارہ طبع کرایا۔حرف اوّل کے تحت آپ نے تحریر فرمایا: مودودی صاحب کا اپنی سیاسی اغراض کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف نعرہ ختم نبوت اس نعره ( إن الحُكْمُ الا لله ) سے کسی طرح مختلف نہیں جو سید نا حضرت علی کے خلاف بلند کیا گیا تھا۔مودودی صاحب نے مارچ ۱۹۶۲ء میں نیا فتنہ پیدا کرنے کے لئے چونسٹھ صفحات کا ایک کتا بچہ شائع کیا۔اس کتابچہ کے جواب میں ماہنامہ الفرقان ربوہ کا ایک خاص نمبر القول الحسین فی تفسیر خاتم النبین کے عنوان سے مئی ۱۹۶۲ء میں شائع کیا گیا۔اس رسالہ میں جناب مودودی صاحب کی ایک ایک بات اور ان کے ایک ایک اعتراض کا مدلل ، معقول اور باحوالہ جواب درج کیا گیا۔اس ضمن میں حضرت مولانا نے الفرقان جولائی ۱۹۶۳ء میں زیر عنوان ” جناب مودودی صاحب کا تازہ ترین گرامی نامہ الفرقان کے خاتم النبین نمبر کے جواب سے عجز کا مزید اعتراف سے درج ذیل تحریر رقم فرمائی۔الفرقان کے قارئین کو معلوم ہے کہ ہم نے اپریل مئی ۱۹۶۲ء میں الفرقان کا خاتم النبیین نمبر شائع کیا تھا۔جس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی تھی اور جناب مودودی صاحب کے تازہ ترین کتا بچہ ختم نبوت" کا مکمل جواب دیا تھا۔جس کے بعد جناب مودودی صاحب نے لا جواب ہو کر خاموشی اختیار فرمالی:- جب لوگوں نے مودودی صاحب سے الفرقان کے خاتم النعین نمبر کے جواب کا بار بار مطالبہ کیا تو