حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 510 of 923

حیاتِ خالد — Page 510

حیات خالد 500 تصنیفات آپ نے ۱۹۶۲۔۷۔۲۱ کو ایک صاحب کو جواب دیا کہ :- آپ کا خط ملا۔جواب تو دنیا میں ہر چیز کا دیا جا سکتا ہے۔خصوصاً قادیانی تو ہر وقت جواب لکھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔مگر میں صرف انہیں باتوں کو قابل التفات سمجھتا ہوں جن میں کوئی وزن ہو۔مجھے الفرقان کے مضمون میں کوئی وزنی بات نظر نہیں آئی۔چند وضاحت طلب امور کی توضیح ختم نبوت کے تازہ ایڈیشن میں کر دی گئی ہے۔خاکسار ابوالاعلی ہم نے الفرقان (دسمبر ۱۹۶۲ء) میں یہ خط شائع کرتے ہوئے لکھ دیا تھا کہ :- ”ہم نے جناب مودودی صاحب کے آخری ایڈیشن کا ہی جواب دیا ہے اس کے بعد کوئی ایڈیشن ترمیم سے شائع نہیں ہوا۔جناب مودودی صاحب کا یہ جواب علمی بحث سے گریزا اور جز پر شاہد ناطق ہے"۔اس کا اثر یہ ہے کہ ابھی تک لوگ مودودی صاحب سے الفرقان کے خاتم النبیین نمبر کا جواب طلب کر رہے ہیں۔اسی سلسلہ میں ایک صاحب کے نام جناب مودودی صاحب کا تازہ جواب نمبر ۱۹۶۳/۱۹۲۷ء۔۶ - ۱۴ جنسم درج ذیل ہے :- آپ کا عنایت نامہ ملا۔آپ میری تفسیر سورۃ احزاب کا ضمیمہ پڑھ لیں۔اس میں قادیانیوں کی ہر ایسی بات کا جو کسی حد تک قابل التفات تھی ، جواب دے دیا گیا ہے۔باقی رہی ہر وہ فضول بات جو انہوں نے کہی ہے، تو ظاہر ہے کہ میں اس کا جواب دینے میں وقت ،، خاکسار۔ابو الاعلیٰ ضائع نہیں کر سکتا۔۔قارئین کرام اندازہ فرمائیں کہ جناب مودودی صاحب احمد یہ استدلال کے سامنے کس قدر عاجز ولا جواب ہیں۔پہلے محلہ میں کیا کہا تھا اور اب کیا کہتے ہیں؟ ترش روئی کا اظہار یا اپنی کتابوں کی فروختگی کی سکیم کو عملی جامہ پہنانا بالکل اور بات ہے اور دلیل کا جواب دلیل سے دینا بالکل علیحدہ امر۔ہمیں یقین ہے کہ جناب مودودی صاحب ہمارے دلائل کا جواب دینے پر ہرگز قادر نہیں ہیں۔جلسہ سالانہ ۱۹۶۳ء میں حضرت مولانا نے اس ۹۔وفات مسیح میں حیات اسلام ہے موضوع پر تقریر فرمائی ج ۶ صفحات کے کتا بچہ پر شائع شدہ ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اس موضوع سے متعلق قرآنی آیات کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے اپنی تقریر کے آخر پر فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قرآنی عقیدہ کو اختیار کر کے ہی اسلام عیسائیت پر غالب آ سکتا ہے۔