حیاتِ خالد — Page 400
حیات خالد 393 اہم شخصیات سے ملاقاتیں رہتے ہیں۔اٹھاتے رہیں۔میں تو حقیقت کو ضرور بیان کروں گا۔ان کی توجہ ان کے تازہ اداریہ کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے ماضی قریب میں فوت ہونے والے علماء کو پہاڑوں جیسی شخصیت کہہ کر اپنی دنیا کے اُجڑ جانے کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے اس کو بھی تسلیم کیا۔جناب اشرف صاحب سے دریافت کیا گیا کہ گزشتہ سال جن احمدیوں کو مار پیٹ کر اور تشدد کے ذریعہ احمدیت سے منحرف کیا گیا ہے کیا وہ آپ کے نزدیک مسلمان قرار پائیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں کیونکہ اس طرح کسی کا عقیدہ نہیں بدل سکتا۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا آیت لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کا یہی مطلب ہے کہ دین کے بارے میں جبر و تشدد نا جائز ہے۔دین کی اشاعت دلائل اور براہین سے ہونی چاہئے ؟ تو انہوں نے اس پر صاد کیا اور اسے درست تسلیم کیا۔آیت کریمہ وَاللَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلا پیش کر کے ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص کو حکومت حج کرنے سے روک دے تو آیت کے رو سے اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ؟ کہنے لگے کہ میں نے اس بارے میں اپنے اخبار کے لئے ایک مضمون لکھا ہے جو عنقریب شائع ہو جائے گا۔یہ اس گفتگو کا مختصر خلاصہ ہے جو اشرف صاحب سے ان کے گھر پر ان کے ساتھ چائے پیتے ہوئے ہوئی تھی۔وہ موٹر تک ہمیں چھوڑنے آئے۔ہم شکر یہ ادا کرنے کے بعد ان سے رخصت ہوئے۔(الفرقان جولائی ۱۹۷۵ ء صفحه ۴-۵) شورش کا شمیری سے ملاقات ہفت روزہ چٹان لاہور کے ایڈیٹر اور مجلس احرار کے سرگرم رکن آغا شورش کاشمیری سے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی مختصر سی ایک ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کا تذکرہ حضرت مولانا نے الفرقان کے شذرات کے کالم میں کیا۔حضرت مولانا صاحب لکھتے ہیں :- چند برس گزرے کہ عزیز مکرم عبد اللطیف صاحب ستکوہی کی دکان پیپر کا رنز میں میں خرید کاغذ کے سلسلہ میں گیا۔وہاں پر آغا شورش صاحب بھی آگئے۔ستکوہی صاحب نے ان سے میرا تعارف کرایا۔چند منٹ تک ان سے گفتگو ہوئی۔انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے دو احمد یوں سے واسطہ پڑا ہے اور میری طبیعت پر ان کا بڑا اثر ہے ایک تو میجر سید حبیب اللہ صاحب تھے جن سے میری جیل میں واقفیت ہوئی اور وہ وہاں انچارج تھے۔پھر شورش صاحب نے مرحوم میجر صاحب کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ میں