حیاتِ خالد — Page 399
حیات خالد 392 اہم شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہے۔اپنے نقطہ نگاہ کو پیش کرتے رہے اور ہماری باتیں سنتے رہے اور بعض سوالوں کا بھی انہوں نے جواب دیا اگر چہ اس ہلکی پھلکی گفتگو میں بھی معاندت کی جھلک نمایاں تھی تا ہم جتنی گفتگو ہوئی اس کے لئے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔احباب کی اطلاع کیلے مختصر خلاصہ ذکر کرنا مناسب ہے۔ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے جو قادیانیوں سے پہلا خطاب" نامی پمفلٹ لکھا تھا کیا آپ کو احمدیوں کی طرف سے اس کا جواب موصول ہوا ہے؟ کہنے لگے کہ بہت سے احمدیوں نے مجھے جوابات دیئے ہیں۔آپ کے رسالہ الفرقان میں بھی جواب آیا اور بھی جرائد میں جواب شائع ہوئے ہیں۔میں نے وہ سب رکھے ہوئے ہیں۔موقعہ ملنے پر ان کا جواب دوں گا۔< ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آئندہ دوسرا خطاب لکھنے کا بھی ارادہ ہے؟ تو کہنے لگے کہ ہاں ارادہ تو ہے! انہیں ہم نے حسب سابق ربوہ آنے کی دعوت دی اور بطور مزاح کہا کہ اب تو ربوہ کو کھلا شہر کہا جاتا ہے۔کہنے لگے کہ میرے لئے تو ربوہ شروع سے کھلا شہر ہے۔میں وہاں آتا جاتا رہا ہوں۔بلکہ جب یہ مطالبہ تجویز ہو رہا تھا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے تو میں نے اس کے غیر ضروری ہونے کی تصریح کر دی تھی کیونکہ ربوہ تو پہلے سے کھلا شہر ہے۔انہوں نے ربوہ آنے کے متعلق کہا کہ میں ضرور آؤں گا مگر عن غير موعدة یعنی وقت مقرر کئے بغیر آؤں گا۔ہم نے کہا کہ آپ ایک دو ماہ میں آجائیں تو انہوں نے آنے کا اقرار کیا مگر تاریخ وغیرہ کے تعین کے بغیر۔جسٹس صمدانی صاحب کے ربوہ آنے کے سلسلہ میں ان کو جو غلط اطلاعات دی گئیں ان کے بارے میں ہم نے انہیں چشم دید اور صحیح حالات بتائے تو وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے۔وہ کہتے تھے کہ اصل میں صمدانی صاحب کی رپورٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی شائع ہونی چاہئے۔ہم سے وعدہ کیا گیا تھا مگر پورا نہیں کیا گیا۔ہم نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ کم از کم قومی اسمبلی میں جو بیان اور سوال و جواب ہوئے ہیں وہ تو شائع کر دئیے جائیں تا کہ جو علماء با ہر غلط بیانیاں کر رہے ہیں ان کا ازالہ ہو جائے۔اسرائیل کے سلسلہ میں بھی انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وقت کی تنگی کے باعث انہوں نے اقرار کیا کہ آپ لوگ جو بھی بیان بھجوائیں گے میں شائع کر دوں گا۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے چند سال پیشتر لکھا تھا کہ احمدیت کے مقابلہ پر پہاڑوں جیسی شخصیتوں نے جدو جہد کی مگر احمدیت ترقی کرتی گئی اور جماعت کی تعداد بڑھتی رہی تو انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے آپ لوگ فائدہ اٹھاتے