حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 396 of 923

حیاتِ خالد — Page 396

حیات خالد 389 اہم شخصیات سے ملاقاتیں سے یاد فرمایا ہے۔احادیث پر مجموعی غور کیا جائے تو وہ قرآن مجید کے عین مطابق ہیں۔حدیث میں صاحب شریعت یا مستقل نبی کے آنے کی نفی ہے اور آیت میں تابع اور مطیع نبی کے آنے کی خبر ہے۔پس قرآن مجید اور حدیث میں واضح تطبیق موجود ہے۔سردار صاحب فرمانے لگے کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ پیدائشی احمدی ہیں یا بعد میں آپ نے احمدیت کو قبول کیا ہے؟ میں نے کہا کہ سردار صاحب ! اگر کسی شخص کو میں اسلام کی دعوت دوں اور اس کے پاس کوئی عذر نہ رہے اور وہ مجھے کہے کہ آپ پیدائشی مسلمان ہیں یا بعد میں مسلمان ہوئے تھے تو کیا اس کا یہ طریق معقول ہے؟ فرمانے لگے کہ میں صرف یہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔میں وہ طریق اختیار نہ کروں گا۔میں نے کہا کہ میں پیدائشی احمدی ہوں۔میرے والد صاحب مرحوم نے اوائل زمانہ میں احمدیت کو قبول کیا اور پیدائش کے وقت سے ہی انہوں نے مجھے خدمت دین کے لئے وقف کر دیا تھا۔میں نے اپنی زندگی میں دہریوں ، آریوں ، یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے جملہ فرقوں کے ماہر علماء سے گفتگو اور مناظرے کئے ہیں اور میں علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہوں کہ اسلام کے وہ عقائد جو احمدیت پیش کرتی ہے وہی حق اور سب پر غالب آنے والے ہیں۔اس پر سردار صاحب کہنے لگے کہ میں حیران ہور ہا تھا کہ ایسا عالم ہم میں سے نکل کر احمدیوں میں کس طرح شامل ہو گیا ہے؟ میں نے کہا کہ بات تو وہی ہوئی جس کا میں نے اشارہ کیا تھا۔اس مرحلہ پر انہیں مجلس وزراء کے اجلاس کے لئے بلا لیا گیا۔ہم نے انہیں چند کتب اور ایک مفصل تحریری بیان پیش کیا۔جس کا مطالعہ کرنے کا انہوں نے بخوشی وعدہ فرمایا۔اس طرح یہ گفتگو ختم ہوئی۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الفرقان دسمبر ۱۹۷۰ء صفحه ۲۸ تا ۳۰) چراغ سحر عطاء اللہ شاہ بخاری معروف احراری لیڈ رسید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ملاقات ۱۹۶۰ء میں اس وقت ہوئی جب شاہ صاحب چراغ سحری تھے۔اس کا سرسری ذکر حضرت مولانا نے الفرقان کی اکتوبر ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں شذرات کے کالم میں کیا ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار سے وابستہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے قیام کے سخت مخالف تھے۔آپ ایک زبر دست مقرر تھے۔برصغیر میں کوئی سیاسی لیڈر ایسا نہ تھا جو ان کے پائے کا مقرر ہو۔وہ جب چاہتے مجمع کو ہنسانے یا رلانے پر قادر تھے۔ان کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا