حیاتِ خالد — Page 395
حیات خالد 388 اہم شخصیات سے ملاقاتیں سورہ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے ہیں تو منعم علیہم سے آپ کی مراد کون لوگ ہوتے ہیں؟ سردار صاحب مرحوم نے جھٹ سورۃ نساء کی آیت وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ الْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقًا پڑھ کر فرمایا کہ اس وقت میرے ذہن میں انعام پانے والے یہ لوگ مراد ہوتے ہیں۔میں نے کہا کہ جناب! اس آیت میں انعام پانے والے لوگوں کے چار گروہ مذکور ہیں۔(1) نبی (۲) صدیق (۳) شہید (۴) صالح۔اب آپ فرما ئیں کہ کیا انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کے نتیجہ میں امت میں یہ سارے گروہ آنحضرت ﷺ کی اتباع و اطاعت میں بن سکتے ہیں؟ سردار صاحب نے ذرا توقف کے بعد سوچ کر فرمایا کہ نبی تو آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں نہیں بن سکتے۔میں نے کہا که بس قرآن مجید تدبر سے پڑھنے کی تبلیغ کا یہی مقصد ہے۔آپ غور فرمائیں کہ قرآن مجید تو اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والوں کے لئے چاروں انعامات کے دروازے کھلے قرار دیتا ہے مگر آپ سب سے پہلے ذکر شدہ اور سب سے بڑے انعام کے دروازہ کو مسدود قرار دیتے ہیں۔سردار صاحب ذرا حیران ہو کر کہنے لگے کہ کیا آپ حیات و وفات مسیح کی بات کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہرگز نہیں۔میرا تو آج کا پیغام بس قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنے کی تلقین تک محدود ہے۔ذرا سوچ کر سردار صاحب کہنے لگے کہ اب مجدد اور عالم تو ہو سکتے ہیں مگر نبی نہیں ہوسکتا کیونکہ آفتاب کی موجودگی میں ٹمٹاتے چراغوں کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کہا کہ یہ اعتراض تو آپ کے عقیدہ پر پڑتا ہے۔آپ آفتاب کی موجودگی میں علماء اور مجدد کی ضرورت کو جو ٹمٹاتے چراغ ہیں مانتے ہیں۔ہمارا عقیدہ تو قانون نیچر کے عین مطابق ہے یعنی آفتاب کے ساتھ ہم ماہتاب کے قائل ہیں۔ماہتاب امتی نبی مسیح موعود ہے۔باقی یہاں تقابل نہیں ہے بلکہ آفتاب کی فیض رسانی اور ماہتاب کے فیض کو قبول کرنے کا مسئلہ ہے۔سردار صاحب نے فرمایا کہ حدیث میں تو لا نبی بعدی آیا ہے۔میں نے کہا کہ اس پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ طے ہو جائے کہ ہم نے ایک یہی حدیث ماننی ہے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب حدیثیں ماننی ہیں۔فرمانے لگے کہ نہیں سب حدیثیں ماننی ضروری ہیں۔میں نے کہا کہ پھر حدیث میں مجددین کے آنے کا بھی ذکر ہے۔امام مہدی کے آنے کا بھی ذکر ہے۔مسیح موعود کے مبعوث ہونے کا بھی بیان ہے اور پھر حدیث صحیح مسلم میں مسیح موعود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دفعہ نبی اللہ کے لفظ