حیاتِ خالد — Page 382
حیات خالد 374 ممالک بیرون کے اسفار رہے تھے۔ان کی معیت کی وجہ سے بڑی سہولت رہی۔کو ئٹہ ائیر پورٹ پر اسی جہاز سے کراچی والے مسافروں کا سامان پہلے چیک کرتے ہیں۔چیکنگ دیکھ کر بار بار اس طرف توجہ ہورہی تھی کہ آخرت کی چیکنگ کتنی دشوار ہوگی۔نبی پاک ﷺ نے فرمایا ”من توقِشَ الْحِسَابَ فَقَدْ عَذَبَ الله تعالى سب مومنوں کو محفوظ رکھے۔بعد ازاں تین بجے کے قریب ائیر پورٹ سے احباب جماعت کے ساتھ کاروں میں گھر پہنچے۔دوستوں نے حسب سابق بعد نماز مغرب دو تین روز میں ایران کے حالات سنے۔کوئٹہ سے ۳۱ جولائی کو روانہ ہو کر یکم اگست کو چنیوٹ سٹیشن پر اتر کر بذریعہ کار بارہ بجے شب بخیر و عافیت بیت العطا در بود پانچ گئے۔تمام محسنوں اور دعا کرنے والوں کا بہت بہت شکریہ۔واجر دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ خاکسار - ابو العطاء (ماہنامہ الفرقان ربوہ اگست ۱۹۷۶ء صفحه ۲۵ تا ۳۰ اور ۴۰)