حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 381 of 923

حیاتِ خالد — Page 381

حیات خالد 373 ممالک بیرون کے اسفار ہوں یا شہر کا میدان فردوسی ہو سب مقامات ہی جاؤ بیت رکھتے ہیں لیکن مجھے آخری ایام میں بندر پہلوی کی تفریحی سیر کا جو موقعہ میسر آیا وہ ایک نا قابل فراموش واقعہ ہے۔۲۲ / جولائی سے ۲۵ / جولائی تک چار دن کی تعطیلات تھیں۔ایسے فرصت کے موقع پر ایرانی اپنی طبیعت کے مطابق ضرور سیر و تفریح کیلئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔بندر پهلوی بحیرہ کیسپین پر شمالی ایران میں روی سرحد کے قریب نئی اور عمدہ بندرگاہ ہے۔تہران سے قریباً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔اس سفر کا آخری حصہ بہت ہی خوشگوار تھا۔تہران سے تو سڑک کے کناروں پر کئے ہوئے گندم کے پودوں کے کھلیان تھے۔آخری حصہ میں دونوں طرف لیے درخت اور دھان کے سبز اور لہلہاتے کھیت تھے۔اخباری بیانات اور مشاہدہ کے مطابق قریباً دس لاکھ آدمی بندر پهلوی پہنچ رہے تھے۔کاروں کا بلا مبالغہ تانتا بندھا ہوا تھا۔ہر قافلہ اپنی مستقل حیثیت رکھتا تھا۔تہران سے بذریعہ بس ۳۵ افراد اور بذریعہ کار پانچ افراد گئے تھے۔احمدیوں کے اس قافلہ کیلئے جن میں ایک شیعہ دوست بھی تھے۔مکرم مبارک احمد صاحب آف بندر پہلوی نے رہائش کا عمدہ انتظام کر رکھا تھا۔کھانا بھی اکثر اوقات جناب مبارک احمد صاحب اور جناب افتخار احمد صاحب آف رشت نے کیا تھا۔سمندر کے کنارے پر نہانے کا عمدہ انتظام تھا۔مگر ہجوم بے انداز تھا۔اس لئے ہم لوگوں نے بندر پہلوی کے ساحل سے قریباً انہیں ۱۹ کلومیٹر دور "چال" نامی جگہ پر جہاں پانی بھی شفاف تھا اور ہجوم بھی نہ تھا ہفتہ کا دن گزارنے کا انتظام کیا اور سب سمندر میں نہائے مجھے بھی دو گھنٹے تک نہانے کا موقعہ ملا۔جمعہ اور عصر کی نمازیں بھی مکرم مبارک احمد صاحب کے مکان پر پڑھیں۔اس عرصہ میں سمندر اور شہر کی سیر کے علاوہ مردہ آب یعنی سمندر کے اس حصہ میں جہاں پانی کھڑا ہے۔قریباً ۵۰ میل تک لانچ پر سیر کی مرغابیوں کی ڈاریں اور کنول کے پودے بھی بکثرت تھے۔الغرض یہ تین چار دن نہایت پر لطف تھے۔۲۵ جولائی کو تین بجے بذریعہ کارواپسی ہوئی۔رشت میں کچھ دیر ٹھہرے یہ ایک اچھا تجارتی شہر ہے۔قزوین میں مختصر قیام کیا گیا۔راستہ کی آبادیوں محمود آباد، منجیرہ ، شریف آباد وغیرہ کو دیکھتے ہوئے ہم سات بجے شام بخیریت تہران پہنچے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔احباب تہران نے عزیزم محمد افضل کے مکان پر بعد نماز عشاء ایک تقریب پیدا کی جو ساڑھے گیارہ بجے شب دعا پر ختم ہوئی اور احباب رخصت ہوئے۔ائیر پورٹ پر چند ا حباب موجود تھے۔وہاں بھی دعا کی۔زاہدان کیلئے ہوائی جہاز میں سوار ہوا۔اس سفر میں اخویم عبد الخالق بٹ بھی پاکستان آ