حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 351 of 923

حیاتِ خالد — Page 351

حیات خالد 351 ممالک بیرون کے اسفار رمضان المبارک کا ہلال نظر آرہا تھا۔سب نمازیوں نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں کیں۔کچھ پرانے تصورات دیرینہ زخموں کو ہرا کر رہے تھے۔آج سے مسجد اقصیٰ اور مسجد ناصر آباد میں بعد عشاء تراویح میں قرآن سنایا جا مبارک مصروفیات رہا ہے۔مسجد مبارک میں سحری سے پہلے تراویح پڑھی جاتی ہیں۔قرآن مجید سنایا جاتا ہے۔دیگر درس بھی ہوتے ہیں۔رمضان کے لئے خاص طور پر روزانہ ایک پارہ کا درس ظہر کے بعد مسجد اقصیٰ میں اور بخاری شریف کی چند احادیث کا روزانہ درس مسجد مبارک میں میرے ذمہ ہے۔ایک سکون ہے۔ایک اطمینان ہے۔ایک لذت آور کیفیت ہے۔مگر یہ انفرادی حالت درو دیوار پر نگاہ کرنے کے ساتھ بجھی بجھی سی ہو جاتی ہے۔اے خدا! تو ساری جماعت کے لئے جلد پورے اطمینان کے دن لا اور اپنے میسیج کی اس بستی کو پھر پوری شان سے مرکز اشاعت اسلام بنا۔اللهم آمین۔( روزنامه الفضل ربوه ۲۶ را پریل ۱۹۵۶ء) قیام پاکستان کے بعد آپ کو قادیان کے علاوہ سابق مشرقی پاکستان ، انگلستان اور ایران کے سفروں کا بھی موقعہ ملا۔سابق مشرقی پاکستان آج بنگلہ دیش ہے۔ماضی میں بھی مشرقی پاکستان جانا مسافت کی وجہ سے گو یا کسی غیر ملک جانے کے مترادف ہی ہوا کرتا تھا۔چنانچہ یہ تذکرہ بھی بیرونی ممالک کے اسفار میں شامل کیا جارہا ہے۔مشرقی پاکستان کیلئے آپ کے پانچ سفروں کا ذکر ملتا ہے۔پہلا مئی ۱۹۶۰ء میں، دوسرا اپریل مئی ۱۹۶۱ء میں ، تیسرا اپریل ۱۹۶۳ء میں، چوتھا ۱۹۶۶ء میں اور پانچواں ۱۹۶۷ء میں۔ذیل میں ان سفروں کی تفصیل دی جارہی ہے۔ا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے دورے نے مئی ۱۹۶۰ء میں مشرقی پاکستان کا ایک سفر کیا جس میں آپ نے چنگاؤں، براہمن بڑ یہ اور احمدی پاڑہ کے علاوہ مضافات کا بھی دورہ کیا اس دورے میں آپ نے متعدد تربیتی اجتماعات سے خطاب کیا اور تربیتی امور انجام دیئے۔غالبا یہ آپ کا مشرقی پاکستان کا پہلا سفر تھا۔ملخص از روز نامہ الفضل ربوہ ۲۹ جولائی ۱۹۶۰ء) ۲۔حضرت مولانا نے ۱۹۶۱ء میں مشرقی پاکستان کا تبلیغی و تربیتی سفر کیا اس کا ذکر ماہنامہ الفرقان اگست ۱۹۶۱ء کے شمارے کے اندرونی ٹائٹل پر فرمایا جو ذیل میں درج ہے۔